حدیث نمبر: 39546
٣٩٥٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (١) عطاء بن السائب عن الشعبي أن امرأة دفعت (إلى) (٢) ابنها يوم أحد السيف، فلم يطلق حمله ⦗٤٧٩⦘ فشدته على ساعده بنسعة، ثم أتت به النبي ﵊ فقالت: يا رسول اللَّه هذا ابني يقاتل عنك، فقال النبي ﵊: "أي بني احمل هاهنا أي بني احمل هاهنا"، فأصابته جراحة، فصرع فأتى النبي ﷺ فقال: "أي بني لعلك جزعت؟ " قال: لا، يا رسول اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی سے منقول ہے کہ ایک عورت نے احد کے دن اپنے بیٹے کو تلوار دی تو وہ لڑکا تلوار اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ۔ پس اس عورت نے تلوار اس لڑکے کے بازو رپر رسی کے ذریعہ سے باندھ دی پھر وہ عورت اس لڑکے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے اور یہ آپ کی طرف سے قتال کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا : اے بیٹے ! اس طرف حملہ کرو۔ اے بیٹے ! اس طرف حملہ کرو۔ پھر اس لڑکے کو زخم لگ گیا اور وہ گرگیا ۔ پھر اس لڑکے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا۔ اے بیٹے ! شاید کہ تم ڈر گئے ہو ؟ اس نے عرض کیا۔ نہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !

حواشی
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٢) في [أ، ب]: (على).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39546
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، والأظهر أن رواية حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب قبل اختلاطه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39546، ترقيم محمد عوامة 37937)