حدیث نمبر: 39544
٣٩٥٤٤ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو عن عكرمة قال: جاء علي بسيفه فقال: خذيه حميدا، فقال النبي ﷺ: ("إن كنت أحسنت القتال اليوم فقد أحسنه سهل بن حنيف وعاصم بن ثابت والحارث بن الصمة وأبو دجانة"، فقال النبي ﷺ) (١): "من يأخذ هذا السيف بحقه؟ " فقال أبو دجانة: أنا، وأخذ السيف فضرب به حتى جاء به قد حناه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "أعطيته حقه؟ " قال: نعم (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہاپنی تلوار لے کر تشریف لائے اور فرمایا : (فاطمہ) تعریف کی ہوئی تلوار پکڑ لو۔ (اس پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے آج کے دن بہترین لڑائی لڑی ہے تو تحقیق سہل بن حنیف، عاصم بن ثابت اور حارث بن صمَّہ اور ابو دجانہ نے بھی بہترین لڑائی لڑی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلے میں کون لے گا ؟ حضرت ابو دجانہ نے کہا۔ میں (لوں گا) اور پھر انہوں نے تلوار پکڑی اور اس کو چلایا یہاں تک کہ جب ابو دجانہ وہ تلوار لے کر (واپس) آئے تو انہوں نے اس کو موڑ ڈالا تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے تلوار کو اس کا حق دے دیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !

حواشی
(١) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39544
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي، أخرجه سعيد بن منصور (٢٨٧٧)، وقد ورد الخبر من طريق عكرمة عن ابن عباس، أخرجه الحاكم ٣/ ٢٤، وأبو نعيم في الإمامة (٣٥)، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢٩٣)، والطبراني (٦٥٠٧)، وورد آخره من حديث أنس عند مسلم (٢٤٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39544، ترقيم محمد عوامة 37935)