مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها باب: یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
٣٩٥٤٢ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثنا موسى بن عبيدة قال: أخبرني عبد اللَّه بن عبيدة عن أبي صالح مولى أم هانئ أن الحارث بن سويد بايع رسول اللَّه ﷺ ⦗٤٧٧⦘ وآمن به، ثم لحق بأهل مكة وشهد (أحدا) (١) فقاتل المسلمين ثم (سقط) (٢) في يده فرجع إلى مكة، فكتب إلى أخيه (جلاس) (٣) بن سويد: يا أخي إني قد ندمت على ما كان مني فأتوب إلى اللَّه، وأرجع إلى الإسلام، فاذكر ذلك لرسول اللَّه ﷺ فإن طمعت (لي) (٤) في توبة فاكتب (إلي) (٥)، (فذكره) (٦) لرسول اللَّه ﷺ فأنزل اللَّه: ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ﴾، قال: (فقال) (٧) قوم من أصحابه ممن كان عليه: (يتمتع) (٨) ثم (يراجع) (٩) إلى الإسلام فأنزل اللَّه: ﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الضَّالُّونَ﴾ [آل عمران: ٨٦، ٩٠] (١٠).ام ہانی کے مولیٰ ابو صالح سے روایت ہے کہ حارث بن سوید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا۔ پھر وہ اہل مکہ کے ساتھ مل گیا اور (انہی کی طرف سے) اُحد میں شریک ہوا۔ اور مسلمانوں سے قتال کیا پھر اس کو شرمندگی ہوئی اور وہ مکہ لوٹ گیا اور اپنے بھائی جُلاس بن سوید کو خط لکھا۔ اے میرے بھائی ! جو کچھ مجھ سے سرزد ہوا ہے میں اس پر نادم ہوں پس میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں اور اسلام کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تم یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کرو اور اگر تمہیں میری توبہ (کی قبولیت) کے بارے میں امید ہو تو مجھے خط لکھ دو ۔ جلاس نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { کَیْفَ یَہْدِی اللَّہُ قَوْمًا کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ } تو اس پر اس کے سابقہ ساتھیوں میں سے کچھ لوگ کہنے لگے ہمارے خلاف اپنی قوم کی معاونت کرتا ہے پھر اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : {إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بَعْدَ إِیمَانِہِمْ ، ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا ، لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ وَأُولَئِکَ ہُمُ الضَّالُّونَ }