حدیث نمبر: 39536
٣٩٥٣٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: (أخبرنا) (١) ثابت عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ أخذ سيفا يوم (أحد) (٢) فقال: "من يأخذ (مني هذا؟) (٣) " فبسطوا أيديهم، فجعل كل إنسان منهم يقول: (أنا) (٤) أنا، فقال: (من يأخذه بحقه؟) (٥) قال: فأحجم القوم، فقال سماك أبو دجانة: أنا آخذه بحقه، قال: فأخذه، ففلق به هام المشركين (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد کے دن تلوار پکڑی اور فرمایا۔ اس کو مجھ سے کون لے گا ؟ لوگوں نے ہاتھ آگے کئے۔ اور ہر آدمی کہنے لگا۔ میں، میں (لوں گا) ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ا تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں کون لے گا ؟ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ رک گئے ۔ اور سماک ابو دجانہ نے کہا۔ میں اس تلوار کو اس کے حق (کی ادائیگی) کے بدلہ میں لیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر ابو دجانہ نے وہ تلوار پکڑ لی اور اس کے ذریعہ بہت سے مشرکین کی کھوپڑیاں پھاڑ ڈالیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (أنبأنا)، وفي [ي]: (حدثنا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [جـ]: (هذا مني).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) هكذا في: [ق، هـ]، وسقط من بقية النسخ، وقد أخرجه بها مسلم (٢٤٧٠)، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٢٣٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39536
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٤٧٠)، وأحمد (١٢٢٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39536، ترقيم محمد عوامة 37927)