حدیث نمبر: 39525
٣٩٥٢٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حميد عن أنس بن مالك أن عمه (١) غاب عن قتال بدر فقال: غبت عن أول قتال قاتله رسوله اللَّه ﷺ المشركين (لئن أراني اللَّه قتال المشركين) (٢)، ليرين اللَّه ما أصنع، فلما كان يوم أحد انكشف المسلمون (فقال) (٣): اللهم إني أعتذر إليك مما صنع هؤلاء -يعني المسلمين، وأبرأ إليك مما ((جاء) (٤) به) (٥) هؤلاء -يعني المشركين، وتقدم فلقيه سعد بأخراها ما دون أحد، فقال سعد: أنا معك، فلم أستطع أصنع ما صنع، ووجُد (فيه) (٦) بضع وثمانون (من) (٧) ضربة بسيف وطعنة (برمح) (٨) ورمية بسهم، (فكنا) (٩) نقول فيه وفي أصحابه نزلت: ﴿فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ﴾ [الأحزاب: ٢٣] (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا ، بدر کی لڑائی میں غیر موجود تھے تو وہ فرماتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی لڑائی لڑی ہے میں اس سے پیچھے رہ گیا ہوں۔ بخدا ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے (اب) مشرکین کے ساتھ لڑائی دکھا دی تو میں بھی اللہ تعالیٰ کو اپنا طرز عمل دکھا دوں گا۔ پس جب احد کا دن تھا اور مسلمان چھٹ گئے تو انہوں نے کہا : اے اللہ ! ان لوگوں (مسلمان) نے جو کچھ کیا ہے میں اس پر آپ سے معذرت کرتا ہوں۔ اور یہ لوگ (مشرکین) جو کچھ لے کر آئے ہیں میں آپ کے سامنے اس سے براءت کرتا ہوں۔ اور (یہ کہہ کر) وہ آگے بڑھے۔ تو انہیں حضرت سعد ملے اور حضرت سعد نے کہا۔ میں (بھی) تمہارے ساتھ ہوں۔ حضرت سعد کہتے ہیں، جو انہوں نے کیا وہ میں نہ کرسکا۔ ان کے جسم پر تلواروں کی ضربیں، نیزوں کے وار اور تیروں کے نشانات اَسّی سے کچھ اوپر پائے گئے تھے۔ اور ہم کہا کرتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں ہی یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ { فَمِنْہُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ }۔

حواشی
(١) في [ق]: زيادة (أنس بن النضر).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) في [ب]: (جاز).
(٥) في [ي]: (صنع هؤلاء).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [أ، ب].
(٩) في [أ، ب]: (وكنا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39525
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٠٥)، ومسلم (١٩٠٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39525، ترقيم محمد عوامة 37917)