حدیث نمبر: 39521
٣٩٥٢١ - حدثنا عيسى بن يونس عن محمد بن إسحاق قال: أخبرني أبي عن رجال من بني سلمة قالوا: لما صرف معاوية عينه التي تمر على قبور الشهداء جرت عليهما فبرز قبرهما، فاستصرخ عليهما فأخرجناهما يتثنيان تثنيا كأنما ماتا ⦗٤٧٠⦘ بالأمس، عليهما بردتان قد غطوا بهما على وجوههما وعلى أرجلهما من نبات الإذخر (١).
مولانا محمد اویس سرور

بنو سلمہ کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت امیر معاویہ نے شہداء کی قبر کے پاس سے گزرنے والا چشمہ جاری فرمایا تو وہ چشمہ دو شہیدوں کی قبر پر سے گزرا تو ان کی قبر کھل گئی۔ پس لوگوں نے ان کے بارے میں فریاد کی تو ہم نے ان دونوں کو باہر نکالا ۔ وہ دونوں یوں لپٹے ہوئے تھے کہ گویا کل ہی مرے ہیں۔ ان پر دو چادریں تھیں۔ جن کے ذریعہ سے ان کے چہروں کو ڈھانپ دیا گیا تھا اور ان کے قدموں پر اذخر کی بوٹی پڑی ہوئی تھی۔

حواشی
(١) مجهول؛ لجهالة الرجال، وانظر: تاريخ المدينة لابن شبه (٣٧٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39521
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39521، ترقيم محمد عوامة 37913)