حدیث نمبر: 39518
٣٩٥١٨ - حدثنا أبو معاوية (عن الأعمش) (١) عن شقيق عن خباب قال: هاجرنا مع رسول اللَّه ﷺ نبتغي وجه اللَّه، فوجب أجرنا على اللَّه، فمنا من مضى لم يأكل من أجره شيئا، منهم مصعب بن عمير قتل يوم أحد، فلم يوجد له شيء يكفن فيه إلا نمرة، كانوا إذا وضعوها على رأسه خرجت رجلاه، وإذا وضعوها على رجليه خرج رأسه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اجعلوهما مما يلي رأسه، واجعلوا على رجليه من (الإذخر) (٢) "، ومنا من (أينعت) (٣) له ثمرته فهو (يهدبها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خباب سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی اور ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے متلاشی تھے۔ پس ہمارا اجر تو اللہ پر واجب ہوگیا۔ پھر ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے اپنے اجر میں سے کچھ نہیں کھایا۔ انہی میں سے مصعب بن عمیر ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے اور ان کو کفن دینے کے لئے بھی سوائے ایک چادر کے کچھ میسر نہ ہوا۔ جب صحابہ کرام یہ چادر ان کے سر پر ڈالتے تھے تو ان کے پاؤں کُھل جاتے تھے۔ اور جب اس کو پاؤں کی طرف کھینچتے تھے تو آپ کا سر مبارک کھل جاتا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چادر اس کے سر کی طرف کردو اور اس کے پاؤں پر اذخر (بوٹی) ڈال دو ۔ اور ہم میں سے بعض وہ تھے جن کے لئے ان کے (اجر کے) پھل پک گئے سو وہ انہیں کاٹ رہے ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [أ]: (الآخر).
(٣) في [أ، ب]: (إنبعث).
(٤) في [ق]: (يهديها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39518
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٢٧٦)، ومسلم (٩٤٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39518، ترقيم محمد عوامة 37910)