حدیث نمبر: 39517
٣٩٥١٧ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: حدثنا أسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر قال: رجع رسول اللَّه ﷺ يوم أحد، فبينما نساء بني عبد الأشهل يبكين على هلكاهن (فقال) (١): "لكن حمزة لا بواكي له"، (فجئن) (٢) نساء الأنصار يبكين على حمزة (ورقد) (٣) فاستيقظ، فقال: "يا ويحهن إنهن لههنا حتى الآن، مروهن فليرجعن ولا يبكين على هالك بعد اليوم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُحد کے دن جب واپس تشریف لائے تو بنی عبد الاشہل کی عورتیں اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لیکن حمزہ پر کوئی رونے والی نہیں ہیں۔ تو انصار کی عورتیں، حضرت حمزہ پر رونے کے لئے آگئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، جاگ اٹھے اور فرمایا : اے ہلاکت والیو ! یہ عورتیں ابھی تک یہاں ہیں، ان کو حکم دو کہ یہ واپس ہوجائیں اور آج کے بعد کسی ہلاک ہونے والے پر نہ روئیں۔

حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [ق]: (فجاء).
(٣) سقط من: [ق، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39517
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أسامة بن زيد الليثي صدوق، أخرجه أحمد (٥٥٦٣)، وابن ماجه (١٥٩١)، وابن سعد ٣/ ١٧، وأبو يعلى (٣٥٧٦)، والطحاوي ٤/ ٢٩٣، والطبراني (٢٩٤٤)، والحاكم ٣/ ١٩٤، والبيهقي ٤/ ٧٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39517، ترقيم محمد عوامة 37909)