حدیث نمبر: 39513
٣٩٥١٣ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن (١) عمير بن إسحاق قال: كان حمزة يقاتل بين يدي رسول اللَّه ﷺ يوم أحد بسيفين ويقول: أنا أسد اللَّه، قال: فجعل يقبل ويدبر فعثر فوقع على قفاه مستلقيا وانكشط، وانكشفت الدرع عن بطنه فأبصره العبد الحبشي فزرقه برمح أو حربة (فنفذه) (٢) بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ ، احد کی جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو تلوار کے ساتھ قتال کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ میں خدا کا شیر ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت حمزہ ، آگے، پیچھے آ جا رہے تھے کہ آپ کو ٹھوکر لگی اور آپ اپنی گردن کے بَل چت گرگئے اور دور ہوگئے اور حضرت حمزہ کے پیٹ پر سے زرہ کھل گئی۔ تو آپ کو ایک حبشی غلام نے دیکھ لیا اور اس نے آپ کو ایک تیر یا نیزہ مارا جو آپ کے پار گزر گیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (ابن).
(٢) في [هـ]: (فبقر)، وفي [ق]: (فبقره).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39513
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمير بن إسحاق تابعي فيه جهالة، وأخرجه الحاكم ٣/ ١٩٢، وابن سعد ٣/ ١٢، وأحمد في مسائل صالح ٢/ ٤١٥، والطبراني (٢٩٥٣)، والبيهقي في دلائل النبوة ٣/ ٢٤٣، وابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ٣٧٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39513، ترقيم محمد عوامة 37905)