حدیث نمبر: 39477
٣٩٤٧٧ - حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن جميع قال: حدثنا أبو (الطفيل) (١) قال: حدثنا حذيفة بن اليمان قال: ما منعني أن أشهد بدرا إلا أني خرجت أنا وأبي حسيل، قال: فأخذنا كفار قريش فقالوا: إنكم تريدون محمدا (٢)؟ فقلنا: (ما نريده) (٣)، ما يزيد إلا المدينة، فأخذوا منا عهد اللَّه وميثاقه لننصرفن إلى المدينة ولا نقاتل معه، فأتينا رسول اللَّه ﷺ فأخبرناه الخبر فقال: "انصرفا، نفي لهم ونستعين اللَّه عليهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن یمان سے روایت ہے کہ میری بدر میں حاضری سے یہ بات مانع ہوئی کہ میں اور ابو حسیل نکلے۔ فرماتے ہیں : تو ہمیں کفارِ قریش نے پکڑ لیا۔ اور انہوں نے کہا : تم لوگ محمد کا ارادہ رکھتے ہو ؟ ہم نے کہا : ہمارا ارادہ محمد کی طرف (جانے کا) نہیں ہے۔ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ (میں جانے کا) ہے۔ اس پر کفار نے ہم سے خدا کا عہد و پیمان لیا کہ ہم ضرور بالضرور مدینہ کی طرف جائیں گے اور ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ قتال نہیں کریں گے۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں چلے جاؤ۔ ہم ان کے لئے بہت ہیں۔ ہم ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد کے طالب ہں ۔

حواشی
(١) في [ب]: (الفضل).
(٢) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٣) سقط من: [ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39477
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الوليد بن جميع صدوق، أخرجه مسلم (١٧٨٧)، وأحمد (٢٣٣٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39477، ترقيم محمد عوامة 37869)