حدیث نمبر: 39476
٣٩٤٧٦ - حدثنا شبابة بن سوار عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال: كان ابن عمتي حارثة انطلق مع النبي ﷺ يوم بدر، فانطلق غلاما نظارا، ما انطلق لقتال، فأصابه سهم فقتله، فجاءت عمتي أمه إلى رسول اللَّه ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه، ابني حارثة إن يك في الجنة صبرت واحتسبت، وإلا فسترى ما أصنع؟ فقال: "يا أم حارثة، إنها جنان كثيرة، وإن حارثة في الفردوس الأعلى" (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ بدر کے دن میری پھوپھی کا بیٹا حارثہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا۔ اور یہ لڑکا محض دیکھنے کے لئے چلا تھا۔ یہ لڑائی کے لئے نہیں چلا تھا۔ اس کو ایک تیر لگ گیا اور اس نے اس کو قتل کردیا۔ پس اس کی والدہ جو کہ میری پھوپھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا بیٹا حارثہ اگر تو جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں اور ثواب کی امید کرتی ہوں ۔ وگرنہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ام حارثہ ! سُنو ! جنتیں تو بہت سی ہیں۔ لیکن حارثہ فردوس اعلی رضی اللہ عنہ میں ہے۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39476
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٦٧)، وأحمد (١٣٢٥٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39476، ترقيم محمد عوامة 37868)