مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٧٦ - حدثنا شبابة بن سوار عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال: كان ابن عمتي حارثة انطلق مع النبي ﷺ يوم بدر، فانطلق غلاما نظارا، ما انطلق لقتال، فأصابه سهم فقتله، فجاءت عمتي أمه إلى رسول اللَّه ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه، ابني حارثة إن يك في الجنة صبرت واحتسبت، وإلا فسترى ما أصنع؟ فقال: "يا أم حارثة، إنها جنان كثيرة، وإن حارثة في الفردوس الأعلى" (١).حضرت انس سے روایت ہے کہ بدر کے دن میری پھوپھی کا بیٹا حارثہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا۔ اور یہ لڑکا محض دیکھنے کے لئے چلا تھا۔ یہ لڑائی کے لئے نہیں چلا تھا۔ اس کو ایک تیر لگ گیا اور اس نے اس کو قتل کردیا۔ پس اس کی والدہ جو کہ میری پھوپھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا بیٹا حارثہ اگر تو جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں اور ثواب کی امید کرتی ہوں ۔ وگرنہ آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ام حارثہ ! سُنو ! جنتیں تو بہت سی ہیں۔ لیکن حارثہ فردوس اعلی رضی اللہ عنہ میں ہے۔