مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٧٢ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت قال: حدثنا أنس قال: كنا مع عمر بين مكة والمدينة نترآى الهلال فرأيته وكنت حديد البصر فجعلت أقول لعمر: (ما) (١) تراه؟ وجعل عمر ينظر ولا يراه، (فقال عمر: سأراه) (٢) وأنا مستلق على فراشي. ثم أنشأ يحدثنا عن أهل بدر، قال: إن رسول اللَّه ﷺ ليرى مصارع أهل بدر بالأمس، يقول: "هذا مصرع فلان غدا إن شاء اللَّه، وهذا مصرع فلان غدا إن شاء اللَّه"، قال: فوالذي بعثه بالحق ما أخطأوا (تلك) (٣) الحدود يصرعون عليها. (ثم) (٤) (جعلوا) (٥) في بئر بعضهم على بعض فانطلق النبي ﷺ حتى انتهى (إليهم) (٦) فقال: "يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان: هل وجدتم ما (وعدكم) (٧) اللَّه ورسوله حقا؟ " فقال (٨) عمر: ((يا رسول) (٩) اللَّه، كيف) (١٠) تكلم أجسادا لا (أرواح) (١١) فيها؟ قال: "ما أنتم بأسمع لما أقول منهم (غير) (١٢) أنهم لا يستطيعون يردون علي شيئا" (١٣).حضرت انس سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر کے ساتھ مکہ، مدینہ کے درمیان چاند دیکھ رہے تھے۔ میری نظر تیز تھی۔ سو میں نے چاند دیکھ لیا۔ میں نے حضرت عمر سے کہنا شروع کیا۔ آپ نے چاند نہیں دیکھا ؟ حضرت عمر دیکھتے رہے لیکن انہیں نظر نہیں آیا ۔ تو انہوں نے فرمایا : مجھے بھی عنقریب نظر آجائے گا۔ میں اپنے بستر پر چت لیٹا ہوا تھا۔ پھر حضرت عمر نے ہمیں اہل بدر کے بارے میں بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل بدر کے قتل گاہ پچھلی رات دکھا دئیے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انشاء اللہ یہ جگہ کل فلاں شخص کی مقتل ہوگی اور یہ جگہ انشاء اللہ فلاں شخص کی مقتل ہوگی۔ حضرت عمر کہتے ہیں۔ قسم اس ذات کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ وہ کفار انہی حدود پر قتل کئے گئے۔ ان سے خطاء نہیں ہوئے۔ پھر مقتولین کفار کو کنویں میں ایک دوسرے پر ڈال کر پھینک دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس پہنچے۔ اور فرمایا : اے فلاں بن فلاں ! اے فلاں بن فلاں ! اللہ، اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو تمہارے ساتھ وعدہ کیا ہے تم نے اس کو برحق پایا ؟ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ان جسموں سے کیسے کلام فرما رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو بات میں کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ نہیں سُن رہے ۔ لیکن یہ بات ہے کہ وہ مجھے کوئی جواب نہیں دے سکتے۔