مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت (عن) (١) أنس أن رسول اللَّه ﷺ شاور حيث بلغه إقبال أبي سفيان، قال: فتكلم أبو بكر، فأعرض ⦗٤٥٣⦘ عنه ثم تكلم عمر: فأعرض عنه، فقال سعد بن عبادة: إيانا تريد يا رسول اللَّه والذي نفسي بيده لو أمرتنا أن نخيضها البحر لأخضناها، ولو أمرتنا أن (نضرب) (٢) أكبادها إلى برك الغماد لفعلنا، قال: فندب رسول اللَّه ﷺ الناس. قال: فانطلقوا حتى نزلوا بدرا (٣) وردت عليهم (روايا) (٤) قريش، وفيهم غلام أسود لبني الحجاج، فأخذوه فكان أصحاب رسول اللَّه ﷺ يسألونه عن أبي سفيان وأصحابه فيقول: ما لي علم بأبي سفيان، ولكن هذا أبو جهل وعتبة وشيبة وأمية ابن خلف، فإذا قال ذلك ضربوه، (فإذا ضربوه) (٥) قال: نعم أنا أخبركم، هذا أبو سفيان، فإذا تركوه (٦) قال: مالي بأبي سفيان علم، ولكن هذا أبو جهل وعتبة وشيبة وأمية بن خلف في الناس، فإذا (قال) (٧) هذا أيضا ضربوه، ورسول اللَّه ﷺ قائم يصلي. فلما رأى ذلك انصرف، قال: "والذي نفسي بيده إنكم لتضربونه إذا (صدقكم) (٨)، (وتتركونه) (٩) إذا كذبكم". قال: وقال رسول اللَّه ﷺ: "هذا مصرع فلان"، يضع يده على الأرض هاهنا، وههنا فما ماط أحدهم عن موضع يد رسول اللَّه ﷺ (١٠).حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر نے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا پھر حضرت عمر نے کلام شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے (بھی) اعراض کیا۔ پھر حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کی مراد ہم ہیں ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں گھوڑے سمندر میں ڈالنے کا حکم دیں گے تو البتہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور اگر آپ ہمیں برک غماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں گے تو ہم یہ بھی کریں گے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو آمادہ فرمایا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس صحابہ چل پڑے یہاں تک کہ وہ بدر میں جا کر اترے تو ان کے پاس قریش کے پانی بھرنے والے اونٹ آپہنچے اور ان میں بنو حجاج کا ایک کالا غلام بھی تھا۔ پس صحابہ نے ان کو پکڑ لیا۔ اصحابِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے جواب دیا ۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف (آ رہے) ہیں۔ پس یہ غلام جب یہ بات کہتا تو صحابہ کرام اس کو مارتے۔ اور جب صحابہ کرام اس کو مارتے تو وہ کہتا۔ ہاں ! میں بتاتا ہوں ۔ یہ ابو سفیان (آ رہا) ہے۔ پھر جب صحابہ کرام ا س کو چھوڑ دیتے تو وہ پھر کہتا۔ مجھے ابو سفیان کا کوئی علم نہیں ہے لیکن یہ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، اور امیہ بن خلف لوگوں کے ساتھ (آ رہے) ہیں۔ پھر جب وہ یہ بات کہتا تو صحابہ کرام پھر اس کو مارتے۔ ٣۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز ادا فرما رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مڑے اور فرمایا : اور جب یہ تمہارے ساتھ جھوٹ بولتا ہے تو تم اس کو چھوڑ دیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ فلاں کی جائے قتل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھ کر فرمایا : یہاں ، یہاں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعیین کردہ جگہ سے کوئی کافر ادھر ادھر (قتل) نہیں ہوا۔