حدیث نمبر: 39465
٣٩٤٦٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: قيل لرسول اللَّه ﷺ حين فرغ من بدر: عليك بالعير ليس دونها شيء، فناداه العباس وهو أسير في وثاقه: (لا يصلح) (١)، (فقال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: (لمه؟) (٣) قال: إن اللَّه وعدك إحدى الطائفتين وقد أعطاك ما وعدك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا۔ آپ پر قافلہ لازم ہے اس کے سوا کوئی چیز نہیں ۔ (یعنی قافلہ کو بھی قابو کریں) پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عباس نے… وہ بیڑی میں جکڑے ہوئے تھے… آواز دی۔ یہ درست نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ کیوں ؟ عباس نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا (کیا ہوا) وعدہ عطا کردیا ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (لا يصح).
(٢) في [أ، ب]: (قال).
(٣) في [أ، ب]: (لمدة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39465
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ لاضطراب رواية سماك عن عكرمة، أخرجه أحمد (٢٠٢٢)، والترمذي (٣٠٨٠)، والحاكم ٢/ ٣٢٧، وأبو يعلى (٢٣٧٣)، والطبراني (١١٧٣٣) وابن سعد ٢/ ٢٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39465، ترقيم محمد عوامة 37857)