مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٦٤ - حدثنا عيسى بن يونس (عن أبيه) (١) عن أبيه -يعني جده- عن ذي الجوشن الضبابي قال: أتيت رسول اللَّه ﷺ بعد أن فرغ من أهل بدر بابن فرس (لي) (٢) ⦗٤٥٠⦘ يقال لها القرحاء، فقلت: يا محمد، إني قد أتيتك بابن القرحاء لتتخذه، قال: "لا حاجة لي فيه، وإن أردت أن أقيضك به المختارة من دروع بدر فعلت"، قلت: ما كنت أقيضك اليوم ((بغرة) (٣) لا حاجة في فيه) (٤)، ثم قال: "يا ذا الجوشن ألا تسلم فتكون من أول هذا الأمر"، قلت: لا، قال: "ولم؟ " قلت: إني رأيت قومك ولعوا بك، قال: "فكيف ما بلغك عن مصارعهم؟ " قلت: قد بلغني، قال: "فأنى يهدى بك"، قلت: إن تغلب على الكعبة وتقطنها، قال: "لعلك إن (عشت) (٥) أن ترى ذلك"، ثم قال: "يا بلال خذ حقيبة الرجل فزوده من العجوة"، فلما أدبرت قال: "أما إنه خير فرسان بني عامر". قال: فواللَّه إني بأهلي بالعوذاء (إذ) (٦) أقبل راكب (فقلت) (٧): من أين أنت؟ قال: من مكة، قال: (قلت) (٨): ما فعل الناس؟ قال: قد (واللَّه غلب) (٩) عليها محمد (١٠) وقطنها، (فقلت) (١١): هبلتني أمي، لو أسلم يومئذ ثم أسأله (الحيرة) (١٢) لأقطعنيها قال: واللَّه لا أشرب الدهر (في) (١٣) كوز ولا (يضرط) (١٤) ⦗٤٥١⦘ الدهر تحتي برذون (١٥).حضرت ذی الجوشن سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بدر سے فارغ ہوگئے تھے۔ اپنے ایک گھوڑے کے بچے کو لے کر حاضر ہوا۔ جس گھوڑے کا نام ۔ القرحائ۔ تھا اور میں نے عرض کیا۔ اے محمد ! میں آپ کے پاس اس قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ یہ آپ لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اگر تم اس کے بدلہ میں مجھ سے بدر کی زرہ میں سے منتخب ذرہ بدلہ میں لینا چاہتے ہو تو پھر میں یہ لے سکتا ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ میں آج آپ سے اس گھوڑے کے عوض کچھ نہیں لوں گا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ذو الجوشن ! کیا تم اسلام نہیں لے آئے تاکہ تم اس معاملہ (دین) کے پہلوں میں سے ہو جاؤ ؟ میں نے جواب دیا : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیوں ؟ میں نے کہا : میں آپ کی قوم کو دیکھتا ہوں کہ وہ آپ کے درپے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تمہیں ان کے پچھاڑے ہوئے (مُردوں) کے بارے میں کیسی خبر پہنچی ہے ؟ میں نے کہا : وہ تو مجھے پہنچی ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر کب تیرے ذریعہ سے ہدایت دی جائے گی ؟ میں نے کہا ۔ اگر آپ کو مکہ پر غلبہ اور وہاں پر آباد ہونا میسر آگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہوسکتا ہے کہ تو اس بات کو دیکھنے تک زندہ رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اس آدمی کا توشہ دان پکڑو اور اس کو توشہ میں عجوہ دے دو ۔ پھر جب رُخ پھیر کر مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ خبردار ! یہ بنو عامر کا بہترین گھڑ سوار ہے۔ راوی کہتے ہیں : بخدا ! میں عوذاء مقام پر اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا کہ ایک سوار سامنے آیا ۔ میں نے پوچھا۔ تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا ۔ مکہ سے میں نے پوچھا۔ (وہاں) لوگوں کا کیا ہوا ؟ اس آدمی نے کہا بخدا ! مکہ پر محمد کا غلبہ ہوگیا ہے اور وہ وہاں پر آباد ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا۔ میری ماں مجھے گم پائے۔ کاش میں اس دن اسلام لے آتا۔ پھر میں ان سے حیرہ کی سلطنت بھی مانگتا تو مجھے مل جاتی۔ خدا کی قسم ! میں کبھی صراحی سے نہیں پیوں گا اور میرے نیچے کبھی گھوڑا نہیں آئے گا۔