حدیث نمبر: 39463
٣٩٤٦٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني سليمان بن المغيرة قال: حدثنا ثابت قال: إن مع عمر بن الخطاب الحربة يوم بدر، ولا يؤتى بأسير إلا أوجرها إياه، (قال) (١): فلما أخذ العباس قال لآخذه: أتدري من أنا؟ قال: لا، قال: أنا عم رسول اللَّه ﷺ (٢) [فلا تذهب بي إلى عمر، قال: فأمسكه، وأُخذ عقيل وقال لآخذه: تدري من أنا؟ قال: لا، قال: أنا ابن عم رسول اللَّه ﷺ (٣)] (٤) (قال): فأمسك الناس (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ثابت کہتے ہیں کہ بدر کے دن حضرت عمر کے پاس ایک نیزہ تھا۔ جب بھی کوئی قیدی لایا جاتا تو حضرت عمر یہ نیزہ اس کے منہ میں مارتے۔ راوی کہتے ہیں : جب عباس کو پکڑا گیا تو انہوں نے اپنے پکڑنے والے سے کہا۔ تم مجھے جانتے ہو ؟ اس آدمی نے جواب دیا۔ نہیں ! عباس نے کہا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا ہوں۔ پس تم مجھے عمر کے پاس نہ لے کر جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : وہ آدمی رک گیا۔ پھر عقیل کو پکڑا گیا تو انہوں نے اپنے پکڑنے والے سے کہا۔ تم مجھے جانتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ! عقیل نے کہا۔ میں رسول اللہ کا چچا زاد ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر لوگ رک گئے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط من: [أ، س].
(٤) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39463
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ثابت تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39463، ترقيم محمد عوامة 37855)