حدیث نمبر: 39456
٣٩٤٥٦ - حدثنا أحمد بن عبد اللَّه قال: حدثنا زهير قال: حدثنا سليمان التيمي أن أنسا حدثهم قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ينظر ما صنع أبو جهل؟ " [قال: فانطلق ابن مسعود فوجده قد ضربه ابنا عفراء حتى (برد) (١)، قال: أنت أبو جهل؟] (٢)، فأخذ بلحيته، قال: وهل فوق رجل قتلتموه، أو رجل قتله قومه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

سلیمان تیمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس نے انہیں بیان کیا ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابو جہل کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے اس کو کون دیکھے گا ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن مسعود چل دیئے تو انہوں نے اس کو اس حالت میں پایا کہ اس کو عفراء کے دو بیٹوں نے ایسا مارا تھا کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا تھا۔ ابن مسعود نے کہا۔ تو ابو جہل ہے۔ اور آپ نے اس کی داڑھی کو پکڑا۔ میں ان لوگوں میں سب سے بلند ہوں جنھیں تم نے قتل کیا ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [ق].
(٢) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39456
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٩٦٢)، ومسلم (١٨٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39456، ترقيم محمد عوامة 37849)