مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه ابن أبي بكر عن يحيى بن (عبد اللَّه بن عبد الرحمن) (٢) بن (أسعد) (٣) بن زرارة قال: قدم بأسارى بدر، وسودة بنت زمعة زوج النبي ﵊ (٤) ⦗٤٤٤⦘ عند آل عفراء في (مناحتهم) (٥) على (عوف) (٦) ومعوذ ابني عفراء، وذلك قبل أن يضرب عليهنّ الحجاب، قالت: قدم بالأسارى فأتيت منزلي، فإذا أنا بسهيل بن عمرو في ناحية الحجوة، مجموعة يداه إلى عنقه، فلما رأيته ما ملكت نفسي (أن قلت:) (٧) أبا يزيد أعطيتم بأيديكم، ألا متم كراما؟ قالت: فواللَّه ما (نبهني) (٨) إلا قول رسول اللَّه ﷺ من داخل البيت: "أي سودة، أعلى اللَّه (وعلى) (٩) رسوله؟ " قلت: يا رسول اللَّه واللَّه إن ملكت نفسي حيث رأيت أبا يزيد أن قلت ما قلت (١٠).حضرت یحییٰ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ بدر کے قیدیوں کو لایا گیا۔ اس وقت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ، حضرت سودہ بنت زمعہ ، عفراء کے بیٹوں عوف اور معوِّذ کی سوگ منانے والی عورتوں کے ساتھ آل عفراء کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ یہ عورتوں پر حجاب کا حکم اترنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ سودہ کہتی ہیں : قیدیوں کو لایا گیا۔ تو میں اپنے گھر کی طرف آئی تو مجھے اچانک ، حجرہ کے کونے میں سہیل بن عمرو دکھائی دیا درآنحالیکہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جمع (باندھے) کئے ہوئے تھے۔ پس جب میں نے اس کو دیکھا۔ تو میرا خود پر قابو نہ رہا اور میں نے کہہ دیا۔ ابو یزید ! تم نے اپنے ہاتھوں سے (اپنا آپ) حوالہ کردیا ہے۔ تم لوگ عزت کی موت کیوں نہ مرگئے۔ حضرت سودہ فرماتی ہیں۔ بخدا ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گھر سے آنے والی آواز کے سوا کسی نے تنبیہ نہیں کی۔ کہ ” اے سودہ ! کیا اللہ اور اس کے رسول سے بھی اوپر ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟ بخدا ! جب میں نے ابو یزید کو دیکھا تو میرا خود پر قابو نہ رہا کہ جو میں نے کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا۔