مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٤٧ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن أبيه أن رقية بنت رسول اللَّه ﷺ توفيت، (فخرج) (١) النبي ﵊ (٢) إلى بدر وهي امرأة عثمان، فتخلف عثمان وأسامة بن زيد يومئذ، فبينما هم يدفنونها إذ سمع عثمان تكبيرا، فقال: يا أسامة، انظر ما هذا التكبير؟ فنظر فإذا هو زيد بن حارثة على ناقة رسول اللَّه ﷺ الجدعاء يبشر بقتل أهل بدر من المشركين، فقال المنافقون: لا واللَّه ما هذا بشيء، ما هذا إلا الباطل، حتى (جيء) (٣) بهم مصفدين مغللين (٤).حضرت ہشام ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔ یہ حضرت عثمان کی اہلیہ تھیں۔ پس حضرت عثمان اور حضرت اسامہ بن زید اس دن پیچھے رہ گئے۔ پھر جب یہ لوگ حضرت زید کو دفن کر رہے تھے تو اس دوران حضرت عثمان نے تکبیر کی آواز سُنی۔ تو حضرت عثمان نے کہا : اے اسامہ ! یہ تکبیر کی آواز کیسی ؟ حضرت اسامہ نے دیکھا وہ حضرت زید بن حارثہ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدعاء (ناک کٹی) اونٹنی پر سوار تھے اور اہل بدر مشرکوں کی ہلاکت کی بشارت دے رہے تھے۔ (اس پر) منافقین نے کہا : بخدا ! یہ کوئی (معتبر) بات نہیں ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے ۔ یہاں تک کہ مشرکین کو مقید کر کے اور خوب کس کر لایا گیا۔