مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٤٦ - حدثنا قراد أبو نوح قال: حدثنا عكرمة بن عمار العجلي قال: حدثنا سماك الحنفي أبو زميل قال: حدثنا ابن عباس قال: حدثني عمر بن الخطاب قال: لما كان يوم بدر نظر رسول اللَّه ﷺ إلى أصحابه وهم ثلاثمائة ونيف، ونظر إلى المشركين فإذا هم ألف وزيادة، فاستقبل النبي ﷺ القبلة ثم مد يديه وعليه رداؤه وإزاره، ثم قال: "اللهم (أين) (١) ما وعدتني، اللهم إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام لا تعبد في الأرض أبدا". قال: فما زال يستغيث ربه ويدعوه حتى سقط رداؤه فأتاه أبو بكر قال: فأخذ رداءه فرداه ثم التزمه من ورائه ثم قال: يا نبي اللَّه كفاك مُناشدتُك ربَّك، فإنه سينجز لك ما وعدك، فأنزل اللَّه: ﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ [الأنفال: ٩]. فلما كان يومئذ والتقوا، هزم اللَّه المشركين فقتل منهم سبعون رجلا، (وأسر منهم سبعون رجلا) (٢)، فاستشار رسول اللَّه ﷺ أبا بكر وعمر وعليا، فقال أبو بكر: يا نبي اللَّه، هؤلاء بنو العم والعشيرة والإخوان، فإني أرى أن تأخذ منهم الفدية، فيكون ما أخذنا منهم قوة على الكفار، وعسى اللَّه أن يهديهم فيكونوا لنا عضدا، ⦗٤٤١⦘ فقال رسول اللَّه ﷺ: "ما ترى يا ابن الخطاب؟ " قلت: واللَّه ما أرى الذي رأى أبو بكر، ولكن أرى أن تمكنني من فلان -قريبا لعمر- فأضرب عنقه، وتمكن عليا من عقيل فيضرب عنقه، وتمكن حمزة من أخيه فلان فيضرب عنقه، حتى يعلم اللَّه أنه ليس في قلوبنا هوادةٌ للمشركين، هؤلاء صناديدهم وأئمتهم وقادتهم، فهوى نبي اللَّه ﷺ ما قال أبو بكر، ولم يهو ما قلت فأخذ منهم الفداء. فلما كان من الغد قال عمر: غدوت إلى النبي ﷺ فإذا هو (قاعد) (٣) وأبو بكر يبكيان، قال: قلت: (يا رسول) (٤) اللَّه (٥) أخبرني ماذا يبكيك أنت وصاحبك؟ فإن وجدت بكاء بكيت، وإن لم أجد بكاء تباكيت لبكائكما، فقال النبي ﷺ: "الذي عرض على أصحابكم من الفداء، لقد عرض عليّ عذابكم أدنى من هذه الشجرة" -لشجرة قريبة وأنزل اللَّه: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا. .﴾ إلى قوله: ﴿لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ (من الفداء) (٦) (عَذَابٌ) (٧) عَظِيمٌ﴾ [الأنفال: ٦٨، ٦٨]، ثم أحل لهم الغنائم، فلما كان يوم أحد من العام المقبل (عرفوا) (٨) بما صنعوا يوم بدر من أخذهم الفداء فقتل منهم سبعون، وفر أصحاب النبي ﷺ (٩) (عن النبي ﷺ) (١٠) وكسرت رباعيته وهشمت البيضة على رأسه وسأل الدم على وجهه وأنزل اللَّه: ﴿أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ [آل عمران: ١٦٥] ⦗٤٤٢⦘ بأخذكم الفداء (١١).حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا۔ تو وہ تین سو سے کچھ زیادہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو دیکھا تو وہ ایک ہزار سے کچھ زیادہ تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رُخ مبارک قبلہ کی جانب کرلیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے۔ اور (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اور ازار بند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا۔ اے اللہ ! آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ کہاں ہے ؟ اے اللہ ! اگر اہل اسلام میں سے یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو (پھر) آپ کی اس دھرتی پر کبھی عبادت نہیں کی جائے گی۔ راوی کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل اپنے رب سے مدد طلب کرتے رہے اور اللہ سے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک گرگئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت ابوبکر حاضر ہوئے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوبکر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر پکڑ لی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (دوبارہ) چادر پہنائی۔ پھر حضرت ابوبکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سے ساتھ لگ گئے پھر کہا : اے پیغمبر خدا ! آپ نے اپنے پروردگار سے جو مطالبہ کرلیا ہے کافی ہے۔ آپ کا پروردگار عنقریب آپ کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کو پورا کر دے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ مُرْدِفِینَ }۔ ٢۔ پھر جب یہ دن (بدر کا) آیا اور باہم آمنا سامنا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی پس ان میں سے ستر آدمیوں کو قتل کیا گیا اور ستر آدمیوں کو ان میں سے قیدی بنایا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا۔ اے پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ (قیدی) لوگ (ہمارے) چچا زاد، قوم اور بھائیوں میں سے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں۔ پس ان سے ہم جو (فدیہ) لیں گے وہ کفار پر قوت ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے تو یہ لوگ ہمارے لئے دست وبازو بن جائیں گے۔ ٣۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا۔ بخدا ! میری رائے وہ نہیں ہے جو حضرت ابوبکر کی رائے ہے۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ فلاں شخص ، عمر کا رشتہ دار ، کو میرے حوالہ کریں تاکہ میں اس کی گردن مار ڈالوں۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالہ عقیل کو کریں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لئے کوئی رحمدلی نہیں ہے۔ یہ لوگ مشرکین کے سرغنہ، لیڈر اور راہنما ہیں۔ ٤۔ جو بات حضرت ابوبکر نے پیش فرمائی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند آگئی اور جو بات میں نے عرض کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہ پسند نہ آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین سے فدیہ وصول کرلیا۔ ٥۔ پھر اگلا دن ہوا تو حضرت عمر فرماتے ہیں۔ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صبح کے وقت حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے بتائیے ! آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر مجھے رونے کی بات معلوم ہوئی تو میں بھی روؤں گا وگرنہ آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے میں بتکلف ہی رو لوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھیوں نے جو فدیہ کے بارے میں میرے سامنے رائے پیش کی تو تحقیق مجھے اس درخت (قریب میں موجود درخت کی طرف اشارہ فرمایا) سے بھی قریب تمہارا عذاب پیش کیا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ { مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ ، تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا } سے لے کر { لَوْلاَ کِتَابٌ مِنَ اللہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ } یعنی فدیہ { عَذَابٌ عَظِیمٌ} پھر صحابہ کے لئے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا۔ ٦۔ پھر جب اگلے سال احد کا دن آیا تو صحابہ کرام نے بدر کے دن جو فدیہ لیا تھا اس کا صحابہ کو بدلہ دیا گیا۔ پس صحابہ میں ستر شہید ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ بھاگ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والی رباعی ٹوٹ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر موجود خود ٹوٹ گئی اور خون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے رُخ مبارک