مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٤١ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: (أخبرنا) (١) إسرائيل عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب عن علي قال: لما قدمنا المدينة فأصبنا من ثمارها اجتويناها وأصابنا وعكٌ، وكان رسول اللَّه ﷺ يتخبر عن بدر. قال: فلما بلغنا أن المشركين قد (أقبلوا) (٢) سار رسول اللَّه ﷺ إلى بدر، وبدر: بئر، فسبقنا المشركين إليها فوجدنا فيها رجلين منهم: رجل من قريش ومولى لعقبة بن أبي (معيط) (٣)، فأما القرشي فانفلت (٤)، وأما المولى فأخذناه، فجعلنا نقول له: كم القوم؟ فيقول: هم -واللَّه- كثير عددهم، شديد بأسهم، فجعل المسلمون إذا قال (ذاك) (٥) (ضربوه) (٦) حتى انتهوا به إلى رسول اللَّه ﷺ ⦗٤٣٧⦘ فقال له: "كم القوم؟ " فقال: هم واللَّه كثير عددهم، شديد بأسهم، فجهد (القومُ) (٧) على أن يخبرهم كم هم؟ فأبى. ثم إن رسول اللَّه ﷺ (سأله) (٨): "كم (ينحرون؟) (٩) " فقال: عشرا كل يوم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "القوم ألف كل جزور لمائة وتبعها". ثم إنه أصابنا من الليل طش من مطر، فانطلقنا تحت (الشجرة) (١٠) (الحجف) (١١) نستظل تحتها من المطر، قال: وبات رسول اللَّه ﷺ ليلتئذ يدعو ربه. فلما طلع الفجرُ نادى: "الصلاة عباد اللَّه"، فجاء الناس من تحت الشجر و (الحجف) (١٢) فصلى بنا رسول اللَّه ﷺ وحرض (١٣) على القتال ثم قال: "إن جمع قريش عند هذه (الضلعة) (١٤) الحمراء من الجبل". فلما أن دنا القوم منا وصاففناهم إذا رجل منهم على جمل أحمر يسير في القوم (فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا علي ناد لي حمزة") (١٥)، وكان أقربهم إلى المشركين، "من صاحبُ الجمل الأحمر؟ وما (يقول) (١٦) لهم"، ثم قال (لهم) (١٧) رسول اللَّه ﷺ: "إن يك في القوم أحد فعسى أن يكون صاحب الجمل الأحمر". ⦗٤٣٨⦘ فجاء حمزة فقال: هو عتبة بن ربيعة وهو ينهى عن القتال ويقول لهم: يا قوم إني أرى قوما (مستميتين) (١٨) لا تصلون إليهم وفيكم (خير) (١٩)، يا قوم اعصبوا اللوم برأسي وقولوا: جبن عتبة، (وقد) (٢٠) علمتم أني لست بأجبنكم، فسمع ذلك أبو جهل فقال: أنت تقول هذا، لو غيرك قال هذا (أعضضته) (٢١) لقد (ملئت رئتك) (٢٢) وجوفك (رعبا) (٢٣)، فقال عتبة: إياي تعيريا مُصفِّرَ اسْتِهِ، ستعلم اليوم إيُنا أجبن. قال: فبرز عتبة وأخوه شيبة وابنه الوليد حمية فقالوا: من يبارز، فخرج فتية من الأنصار ستة، فقال عتبة: لا يزيد هؤلاء، ولكن يبارزنا من بني عمنا من بني عبد المطلب، قال: فقال رسول اللَّه ﷺ: "قم يا علي، قم يا حمزة، قم يا عبيدة بن الحارث"، فقتل (اللَّه) (٢٤) عتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة، وجرح عبيدة بن الحارث، فقتلنا منهم سبعين وأسرنا (٢٥) سبعين. (قال) (٢٦): فجاء رجل من الأنصار قصيرٌ بالعباس أسيرا، فقال العباس: إن هذا واللَّه ما أسرني، لقد (أسرني) (٢٧) رجل أجلح من أحسن الناس وجها على ⦗٤٣٩⦘ فرس أبلق، ما أراه في القوم فقال الأنصاري: أنا أسرته يا رسول اللَّه، فقال له: "اسكت لقد أيدك اللَّه بملك كريم"، (قال علي) (٢٨): فأسر من بني عبد المطلب: العباس، وعقيل، ونوفل بن الحارث (٢٩).حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم مدینہ میں آئے اور ہم نے وہاں کے پھل کھائے تو وہ ہمیں موافق نہ آئے اور ہمیں شدید بخار آگیا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب ہمیں یہ بات پہنچی کہ مشرکین آ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف چل پڑے۔ بدر ایک کنویں کا نام ہے۔ سو ہم مشرکین سے پہلے بدر میں پہنچ گئے تو ہم نے وہاں مشرکین میں سے دو آدمیوں کو پایا۔ ایک آدمی قریش میں سے تھا اور ایک عقبہ بن ابی معیط کا آزاد کردہ غلام تھا۔ جو قریشی تھا وہ تو قریش کی طرف بھاگ گیا اور جو آزاد کردہ غلام تھا اس کو ہم نے پکڑ لیا۔ اور ہم نے اس سے یہ پوچھنا شروع کیا۔ کتنے لوگ ہیں ؟ وہ جواب میں کہتا۔ بخدا ! وہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں۔ اور ان کی پکڑ بہت سخت ہے۔ جب اس نے یہ بات کہی تو مسلمانوں نے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : کتنے لوگ ہیں ؟ اس آدمی نے جواباً کہا : بخدا ! یہ بہت زیادہ تعداد میں ہیں اور شدید پکڑ والے ہیں۔ سو لوگوں نے اس بات کی بہت کوشش کی کہ وہ بتادے کہ مشرکین کی تعداد کتنی ہے لیکن اس آدمی نے (مسلسل) انکار کیا۔ ٢۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا : تم کتنے اونٹ ذبح کرتے ہو ؟ اس آدمی نے جواباً کہا : ہر روز دس اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ لوگ ایک ہزار کی تعداد میں ہیں۔ ہر ایک اونٹ سو کے لگ بھگ کے لئے (کافی) ہوتا ہے۔ ٣۔ پھر ہمیں رات کے وقت ہلکی سی بارش محسوس ہوئی تو ہم درختوں اور ڈھالوں کی طرف بارش سے بچاؤ کرتے ہوئے چل دیے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات دعا مانگتے رہے۔ پس جب فجر طلوع ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منادی فرمائی۔ اے بندگان خدا ! نماز کا خیال کرو۔ پس لوگ درختوں اور ڈھالوں میں سے (نکل کر) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور لڑائی پر ابھارا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پہاڑوں کی اس سُرخ مثلث کے پاس قریش کی جماعت موجود ہے۔ ٤۔ پھر جب یہ لوگ ہمارے قریب ہوئے اور ہم نے صفیں ترتیب دیں تو ان میں سے ایک آدمی سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار مشرکین میں چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اے علی رضی اللہ عنہ ! حمزہ کو میری طرف سے آواز دو ۔ یہ مشرکین کے زیادہ قریب تھے۔ کہ یہ سرخ اونٹ والا کون شخص ہے اور یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا۔ اگر لوگوں (مشرکین) میں سے کسی کے پاس خیر ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ (صاحب خیر) یہی سرخ اونٹ والا شخص ہو۔ پھر حضرت حمزہ تشریف لائے اور فرمایا : یہ شخص عتبہ بن ربیعہ ہے۔ اور یہ لوگوں کو لڑائی سے منع کر رہا ہے اور انہیں یہ کہہ رہا ہے۔ اے میری قوم ! میں ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو موت کی متمنی ہے اور تم ان تک اس حالت میں نہیں پہنچ سکتے کہ تم میں کوئی خیر (یعنی فتح) ہو۔ اے میری قوم ! ملامت کو میرے سر باندھو اور یہ کہہ لینا۔ عتبہ بزدل ہوگیا ہے ۔ حالانکہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تم سے زیادہ بزدل نہیں ہوں۔ ٥۔ پس یہ بات ابو جہل نے سُنی تو اس نے کہا۔ تُو یہ بات کہہ رہا ہے ؟ اگر تمہارے سوا کوئی اور شخص یہ بات کرتا تو میں اس کو کٹوا دیتا۔ تحقیق تیرا پھیپھڑا اور پیٹ رعب سے بھر دیا گیا ہے۔ عتبہ نے کہا ۔ اے اپنی سرین کو پیلا کرنے والے ! تو مجھے عار دلاتا ہے۔ عنقریب آج کے دن تو جان جائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ بزدل ہے ؟ ٦۔ راوی کہتے ہیں پھر عتبہ اور اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹاو لید، غیرت کھاتے ہوئے سامنے آئے اور کہنے لگے۔ کون مقابل آئے گا ؟ تو انصاریوں سے چھ جوان باہر نکلے تو عتبہ نے کہا۔ ہمیں ان لوگوں سے مطلب نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے مقابل ہمارے چچا زاد، بنی عبد المطلب میں سے کوئی آئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی رضی اللہ عنہ ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے حمزہ ! کھڑے ہو جاؤ۔ اے عبیدۃ بن الحارث ! کھڑے ہو جاؤ۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کیا اور حضرت عبیدہ بن الحارث کو زخم آگئے۔ اور ہم نے مشرکین میں سے ستر کو قتل کیا اور ستر کو قیدی بنایا۔ ٧۔ راوی کہتے ہیں : پھر انصار میں سے ایک پستہ قد آدمی عباس کو قید کر کے لائے۔ عباس کہنے لگے۔ بلاشبہ، بخدا ! مجھے اس انصاری نے قید نہیں کیا۔ بلکہ مجھے ایک گنجے آدمی نے جو بہت خوبصورت چہرے والا تھا۔ قید کیا ہے اور وہ سفید و سیاہ داغ والے گھوڑے پر سوار تھا۔ مں ا اس آدمی کو (آپ کے) لشکر میں نہیں دیکھ رہا۔ انصاری نے عرض کیا۔ یا رسو