حدیث نمبر: 39440
٣٩٤٤٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن جرير بن حازم عن أخيه يزيد بن حازم عن عكرمة مولى ابن عباس قال: لا نزل المسلمون بدرا وأقبل المشركون (نظر) (١) رسول اللَّه ﷺ إلى عتبة بن ربيعة وهو على جمل له أحمر، فقال: "إن يك عند أحد من القوم خير فعند صاحب الجمل الأحمر، إن يطيعوه يرشدوا"، فقال عتبة: أطيعوني ولا تقاتلوا هؤلاء القوم، فإنكم إن فعلتم لم يزل (ذاك) (٢) في قلوبكم، ينظر الرجل إلى قاتل أخيه وقاتل أبيه، (فاجعلوا) (٣) (فيّ جبنها) (٤) وارجعوا، قال: (فبلغت) (٥) أبا جهل فقال: انتفخ واللَّه سَحْرُةُ حيث رأى محمدا (٦) وأصحابه، واللَّه ما ذاك به، وإنما ذاك لأن ابنه معهم، وقد علم أن محمدا وأصحابه أكْلَةُ جزور لو قد التقينا، قال: ⦗٤٣٦⦘ فقال عتبة: (سيعلم) (٧) مُصَفِّر اسْتِهِ (من) (٨) الجبان المفسد لقومه، أما واللَّه إني لأرى تحت القَشْع قوما لَيَضْرِبُنَّكُمْ ضربا (٩) يدعون لكم البقيع، أما ترون كأن رؤوسهم رؤوس الأفاعي، وكأن وجوههم السيوف، قال: ثم دعا أخاه وابنه ومشى بينهما حتى إذا (فصل (١٠) من الصف دعا إلى المبارزة (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان بدر میں اترے اور مشرکین سامنے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کو دیکھا۔ وہ اپنے سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار تھا۔ تو فرمایا : اگر کفار میں سے کسی کے پاس خیر (کی بات) ہے تو وہ اس سُرخ رنگ والے اونٹ والے کے پاس ہے۔ اگر یہ کفار اس کی بات مان لیں گے تو اچھے رہیں گے۔ عتبہ نے (لوگوں سے) کہا۔ تم لوگ میری بات مانو اور ان لوگوں (مسلمانوں) سے لڑائی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم نے لڑائی لڑی تو یہ بات تمہارے دلوں میں مسلسل باقی رہے گی۔ یعنی ایک آدمی اپنے بھائی اور اپنے والد کے قاتل کو (زندہ) دیکھتا پھرے گا۔ تم لوگ اس لڑائی کی بزدلی مجھ پر ڈال دو اور لوٹ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات ابو جہل تک پہنچی تو اس نے کہا : بخدا ! عتبہ نے جب سے محمد اور اس کے صحابہ کو دیکھا ہے بزدل ہوگیا ہے۔ بخدا ! (جو یہ کہہ رہا ہے) یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اس کا بیٹا ان کے ہمراہ ہے۔ حالانکہ اس کو معلوم بھی ہے کہ اگر ہم محمد اور اس کے اصحاب سے لڑیں تو وہ کم عدد لوگ ہیں۔ راوی کہتے ہیں : عتبہ نے کہا : عنقریب اپنی سرین کو زرد کرنے والا جان لے گا کہ اپنی قوم میں فساد ڈالنے والا کون شخص بزدل ہے۔ بخدا ! میں تو ان ملبوسات کے نیچے ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جو تمہیں ضرور بالضرور اس طرح مارے گی کہ وہ تمہارے لئے بقیع کو پکاریں گے۔ کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ ان کے سر، سانپوں کے سروں کی طرح (بلند) ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہں س ؟ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان کے درمیان چلنے لگا یہاں تک کہ جب وہ صف سے نکل گیا تو اس نے مبارزت کی دعوت دی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ي]: (نزل).
(٢) في [س]: (ذلك).
(٣) في [أ، ب]: (فارجعوا).
(٤) في [ق، هـ]: (إلى جنبها).
(٥) في [أ، ب]: (فبلغ).
(٦) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٧) سقط من: [س].
(٨) في [س]: (عن).
(٩) في [جـ، ق]: زيادة (ما).
(١٠) في [ي]: (نصل)، وفي [ب، م]: (اتصل)، وفي [أ]: (تصل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39440
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عكرمة تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39440، ترقيم محمد عوامة 37833)