مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
٣٩٤٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن إبراهيم بن سعد عن أبيه عن جده عن عبد الرحمن بن عوف قال: إني لفي الصف يوم بدر، فالتفت عن يميني وعن شمالي فإذا غلامان حديثا السن، فكرهت مكانهما فقال لي أحدهما سرا من صاحبه: أي عم، أرني أبا جهل، قال: قلت: ما تريد منه؟ قال: إني جعلت للَّه علي إن رأيته أن أقتله، قال: فقال الآخر أيضا سرا من صاحبه: أي عم أرني أبا جهل قال: قلت: وما تريد منه؟ قال: (١) جعلت للَّه علي إن رأيته أن أقتله، قال: فما سرني بمكانهما غيرهما، قال: قلت: هو ذاك، قال: (و) (٢) أشرت لهما إليه فابتدراه وإنهما صقران وهما -ابنا عفراء- حتى ضرباه (٣).حضرت عبد الرحمان بن عوف سے روایت ہے کہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا۔ میں نے اپنے دائیں، بائیں نظر دوڑائی تو دو کم عمر لڑکے دکھائی دیئے۔ میں نے ان کے کھڑا ہونے کو ناپسند کیا۔ ان لڑکوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے خفیہ مجھ سے کہا۔ اے چچا جان ! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمان بن عوف فرماتے ہیں ۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ؟ لڑکے نے جواب دیا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمان بن عوف کہتے ہیں۔ دوسرے لڑکے نے بھی اپنے ساتھی سے خفیہ کہا۔ اے چچا جان ! مجھے ابو جہل دکھا دیجئے۔ عبد الرحمان کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ تمہیں اس سے کیا مطلب ہے ؟ اس لڑکے نے جواب دیا ۔ میں نے خدا کا نام لے کر یہ نذر مانی ہے کہ اگر میں اس کو دیکھ لوں گا تو میں اس کو قتل کروں گا۔ عبد الرحمان کہتے ہیں۔ (یہ بات سن کر) مجھے ان دونوں کی جگہ کسی اور کا ہونا پسند نہ آیا۔ فرماتے ہیں۔ میں نے کہا : ابو جہل یہ ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے ان دونوں کے لئے ابو جہل کی طرف اشارہ کیا ۔ پس وہ دونوں اس پر جھپٹ پڑے گویا کہ وہ شکرے ہیں۔ اور یہ دونوں عفراء کے بیٹے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے ابو جہل کو مار دیا۔