مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
غزوة بدر الكبرى (وما) كانت، وأمرها باب: بڑا غزوۂ بدر، اور جو کچھ ہوا ،اور غزوہ بدر کے واقعات
حدیث نمبر: 39436
٣٩٤٣٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عبد اللَّه بن ثعلبة بن (صُعَيْر) (١) (العذري) (٢) أن أبا جهل قال يوم بدر: اللهم أقطعنا للرحم وآتانا بما لا (يعرف) (٣) فأحنه الغداة، قال: فكان ذلك استفتاحا منه فنزلت ⦗٤٣٤⦘ هذه الآية: ﴿إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ وَإِنْ تَنْتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ﴾ الآية [الأنفال: ١٩] (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ عذری سے روایت ہے کہ ابو جہل نے بدر کے دن کہا۔ اے اللہ ! جو آدمی ہم میں سے زیادہ قطع رحمی کرنے والا اور غیر معروف کا زیادہ مرتکب ہے تو اس کو ہلاک کر دے۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ بات ابو جہل کی طرف سے طلب فتح کی تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَائَ کُمُ الْفَتْحُ ، وَإِنْ تَنْتَہُوا فَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ }
حواشی
(١) في [أ، ب]: (صغير).
(٢) في [ب]: (العبدي).
(٣) في [س]: (نعرف).