حدیث نمبر: 39407
٣٩٤٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن ابن سيرين أنه ذكر عنده عثمان بن عفان، قال (رجل) (١): إنهم يسبونه، قال: ويحهم يسبون رجلا دخل على النجاشي في نفر من أصحاب محمد ﷺ فكلهم أعطاه الفتنة غيره، قالوا: وما الفتنة ⦗٤٢٣⦘ التي أعطوها؟ قال: كان لا يدخل عليه أحد إلا أومأ إليه برأسه فأبى عثمان فقال: ما منعك أن تسجد كما سجد أصحابك؟ فقال: ما (كنت) (٢) لأسجد لأحد دون اللَّه (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن سیرین کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے ہاں حضرت عثمان بن عفان کا ذکر ہوا تو ایک آدمی نے کہا۔ لوگ تو ان پر سب و شتم کرتے ہیں۔ ابن سیرین نے کہا ہلاکت ہو ان لوگوں پر کہ وہ ایسے آدمی پر سب و شتم کرتے ہیں۔ کہ جو نجاشی کے پاس اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک جماعت کے ہمراہ داخل ہوا تھا۔ تو ان میں سے ہر ایک نے آزمائش اپنے غیر کے حوالہ کردی۔ لوگوں نے پوچھا : وہ کیا آزمائش تھی جو انہوں نے حوالہ کی۔ ابن سیرین نے کہا۔ نجاشی کے پاس جو بھی جاتا تھا تو وہ اپنا سر جھکا کر داخل ہوتا تھا۔ حضرت عثمان نے اس سے نکار کردیا تو نجاشی نے ان سے کہا۔ جس طرح تیرے ساتھیوں نے کیا ہے تمہیں ویسے کرنے سے کس نے منع کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ میں اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کیا کرتا۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (كتب).
(٣) في [أ، ب]: زيادة ﷿.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ ابن سيرين تابعي، أخرجه ابن عساكر ٣٩/ ٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39407، ترقيم محمد عوامة 37800)