مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه باب: وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
٣٩٣٩٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: بعث رسول اللَّه ﷺ عمرا على جيش ذات السلاسل إلى لخم و (جذام) (١) ومسانف الشام، قال: وكان في أصحابه قلة، قال: فقال (لهم) (٢) عمرو: لا يوقدن أحد منكم نارا، فشق ذلك عليهم، فكلموا أبا بكر أن يكلم عمرًا فكلمه فقال: لا يوقد أحد نارا إلا ألقيته فيها، فقابل العدو فظهر عليهم واستباح عسكرهم، فقال (له) (٣) الناس: ألا نتبعهم؟ فقال: لا، إني أخشى أن يكون لهم وراء هذه الجبال مادة يقتطعون (بها) (٤) المسلمين (٥)، (فشكوه) (٦) (إلى) (٧) النبي ﷺ حين رجعوا فقال: "صدقوا يا عمرو"، (قال) (٨): كان ⦗٤١٦⦘ في أصحابي قلة فخشيت أن يرغب العدو في قتلهم، فلما أظهرني اللَّه عليهم قالوا: اتبعهم؟ قلت: أخشى أن (تكون) (٩) لهم وراء هذه الجبال مادة يقتطعون بها المسلمين، قال: (فكان) (١٠) النبي ﷺ حمد أمره (١١).حضرت قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات السلاسل کے لشکر کو لخم، جذام اور مسایف شام کی طرف حضرت عمرو کی امارت میں روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں کی قلت تھی۔ راوی کہتے ہیں ۔ حضرت عمرو نے لوگوں سے کہا۔ تم میں سے کوئی شخص آگ روشن نہ کرے۔ یہ بات لوگوں کو بہت شاق گزری تو لوگوں نے حضرت ابوبکر سے بات کی۔ کہ وہ حضرت عمرو سے بات کریں۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمرو سے اس کے بارے میں بات کی تو آپ نے فرمایا : جو شخص آگ روشن کرے گا تو میں اس شخص کو اسی آگ میں دھکیل دوں گا۔ پھر حضرت عمرو نے دشمن سے لڑائی کی تو ان پر غلبہ پایا اور ان کے لشکر کی جڑ اکھاڑ ڈالی۔ لوگوں نے پوچھا : کیا ہم دشمن کا پیچھا نہ کریں ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : نہیں ! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اس پہاڑ کے پیچھے ان کی کمک موجود نہ ہو۔ جس کے ذریعہ سے وہ مسلمانوں کو ٹکڑے کردیں ۔ جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں واپس لوٹے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عمرو کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : اے عمرو ! یہ سچ کہہ رہے ہیں ؟ حضرت عمرو نے عرض کیا۔ میرے ساتھیوں کی قلّت تھی۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ دشمن ان میں ان کی قلت کی وجہ سے رغبت کرے گا (اس لئے آگ جلانے سے منع کیا) پس جب اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تو ان لوگوں نے کہا۔ ان کا پیچھا کرو۔ میں نے کہا؛ مجھے یہ خوف ہے کہ اس پہاڑ کی اوٹ میں دشمن کی کمک موجود ہوگی جو مسلمانوں کے ٹکڑے کر دے گی۔ راوی کہتے ہیں ۔ گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرو کی بات کی تعریف فرمائی۔