مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه باب: وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
٣٩٣٩٦ - حدثنا وكيع عن قرة بن خالد السدوسي عن يزيد بن عبد اللَّه بن الشخير قال: كنا جلوسا بهذا (المربد) (١) بالبصرة، فجاء أعرابي معه قطعة (من) (٢) أديم أو قطعة من جراب فقال: هذا كتاب كتبه لي النبي ﷺ، قال: فأخذته فقرأته على القوم، فإذا فيه: "بسم اللَّه الرحمن الرحيم من محمد رسول اللَّه ﷺ لبني زهير ابن (أقيش) (٣): إنكم (إن) (٤) أقمتم الصلاة وأتيتم الزكاة وأعطيتم من المغانم الخمس وسهم النبي والصفي فأنتم آمنون بأمان اللَّه وأمان رسوله (٥) "، قال: فما سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول شيئا، قال: سمعته يقول: "صوم شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر يذهبن وحر الصدر" (٦).حضرت یزید بن عبد اللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ ہم بصرہ میں اس باڑے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو ایک دیہاتی آیا اس کے پاس چمڑے یا کھال کا ایک ٹکڑا تھا۔ اس آدمی نے کہا۔ یہ وہ خط ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تحریر فرمایا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے اس خط کو پکڑا اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس میں یہ تحریر تھا۔ بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محمد کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کی طرف۔ بلاشبہ اگر تم لوگ نماز کو قائم کرو اور زکوۃ کو ادا کرو اور غنائم میں سے خمس، سہم ال نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حاکم کا منتخب حصہ ادا کرو تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امان حاصل ہوگا۔ راوی نے پوچھا۔ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی بات سُنی ہے ؟ اعرابی نے کہا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا ہے کہ ماہ صبر کے روزے اور ہر ماہ تین دن کے روزے سینہ کے وساوس کو ختم کردیتے ہیں۔