حدیث نمبر: 39393
٣٩٣٩٣ - حدثنا يزيد بن هارون (قال: أخبرنا) (١) محمد بن عمرو عن (عمر) (٢) ابن الحكم بن (ثوبان) (٣) عن أبي سعيد الخدري أن رسول اللَّه ﷺ بعث علقمة بن ⦗٤١٣⦘ (مجزز) (٤) على بعث أنا فيهم، فلما انتهى (إلى) (٥) رأس غزاته أو كان ببعض الطريق استأذنته طائفة من الجيش فاذن لهم، وأمر عليهم عبد اللَّه بن حذافة بن قيس السهمي، فكنت فيمن غزا معه، فلما كنا ببعض الطريق أوقد القوم نارا ليصطلوا أو (ليصطنعوا) (٦) عليها (صنيعًا) (٧) لهم، فقال عبد اللَّه وكانت فيه دعابة: أليس لي عليكم السمع والطاعة، قالوا: بلى، قال: فما أنا بآمركم (٨) شيئا إلا صنعتموه، قالوا: نعم، قال: فإني أعزم عليكم ألا تواثبتم في هذه النار، قال: فقام ناس (فتحجزوا) (٩)، فلما ظن أنهم واثبون قال: أمسكوا على أنفسكم، فإنما كنت أمزح معكم، فلما قدمنا ذكرنا ذلك لرسول اللَّه ﷺ فقال: "من أمركم منهم بمعصية فلا (تطيعوه) (١٠) " (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علقمہ بن محرز کو ایک وفد میں امیر بنا کر بھیجا۔ میں بھی اس وفد میں تھا۔ پس جب یہ راستہ میں تھے یا یوں فرمایا کہ کچھ راستہ طے کرچکے تھے تو ان سے لشکر کے ایک گروہ نے اجازت مانگی ۔ انہوں نے ان کو اجازت دے دی۔ اور ان پر عبد اللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر مقرر فرما دیا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ان کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا تھا۔ پس جب ہم کچھ راستہ طے کرچکے تو لوگوں نے آگ جلائی تاکہ ہاتھ پاؤں گرم کریں یا اس آگ پر کوئی کھانا وغیرہ بنائیں۔ عبد اللہ (امیر قافلہ) کہنے لگے۔ یہ مذاق و ہنسی کرتے تھے۔ کیا تم پر میری بات کا سننا اور ماننا واجب نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! تو عبد اللہ نے کہا : پس میں تمہیں جو بھی حکم دوں گا تم اس کی تعمیل کرو گے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! عبد اللہ نے کہا : میں تمہں تاکیداً یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور اس کے لئے تیار ہوگئے۔ پھر جب عبد اللہ کو یقین ہونے لگا کہ یہ لوگ کود جائیں گے تو انہوں نے کہا : تم لوگ ٹھہر جاؤ۔ میں تو تمہارے ساتھ محض مزاح کر رہا تھا۔ پھر جب واپس آئے تو ہم نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ تمہیں، ان (امرائ) میں سے جو گناہ کا حکم دے تو تم اس کی بات نہ مانو۔

حواشی
(١) في [أ]: (قال: لنا).
(٢) في [أ، ب]: (الحكم).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (نوفل).
(٤) انظر: الإصابة ٤/ ٥٥٩، وشرح مشكل الآثار ٤/ ٣٠٦، وهدي الساري ص ٢١٦، والإكمال ٧/ ١٦٨، وتوضيح المشتبه ٨/ ٧٧، وفي [أ، ب، هـ]: (محرز)، وفي [جـ]: (محرر).
(٥) في [أ، ب]: (على).
(٦) في [أ، ب]: (يسطتعوا).
(٧) في [هـ]: (عليه شيئًا).
(٨) في [أ، ب]: زيادة (بشيء).
(٩) في [أ، ب، ط، هـ]: (فتجهزوا).
(١٠) في [هـ]: (تطيعوهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39393
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١١٦٣٩)، وابن ماجه (٢٨٦٣)، وابن حبان (٤٥٥٨)، وأبو يعلى (١٣٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39393، ترقيم محمد عوامة 37787)