حدیث نمبر: 39391
٣٩٣٩١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي حازم قال: بعث رسول اللَّه ﷺ إلى خثعم لقوم كانوا فيهم، فلما غشيهم المسلمون استعصموا بالسجود، قال: فسجدوا، قال: فقتل بعضهم فبلغ ذلك رسول اللَّه ﷺ فقال: "أعطوهم نصف العقل لصلاتهم"، ثم قال النبي ﷺ: "ألا إني بريء من كل مسلم مع مشرك" (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خثعم قبیلہ کی طرف انہی میں سے کچھ لوگوں کو قاصد بنا کر بھیجا۔ پس جب مسلمانوں نے ان کو ڈھانپ (گھیر) لیا تو ان لوگوں نے سجدوں کے ذریعہ حفاظت طلب کی (یعنی سجدوں سے اپنا اسلام ظاہر کیا) ۔ راوی کہتے ہیں : پس ان لوگوں نے سجدہ کیا۔ راوی کہتے ہیں : پھر بھی مسلمانوں نے بعض ساجدین کو قتل کردیا۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان کی نمازوں کی وجہ سے ان کی نصف دیت ادا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار ! جو مسلمان مشرک کے ہمراہ رہ رہا ہے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہوں۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39391
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس تابعي، أخرجه الشافعي في المسند ص ٢٠٢ والأم ٦/ ٣٥، والبيهقي ٨/ ١٣٠، وأصله عند النسائي (٦٩٨٢) والترمذي (١٦٠٥)، وسعيد ١/ (٢٦٦٣)، وورد من حديث قيس عن جرير، أخرجه الطبراني (٢٢٦٥)، وبنحوه عند أبي داود (٢٦٤٥)، والترمذي (١٦٠٤)، وورد من حديث قيس عن خالد عند الطبراني (٣٨٣٦)، والطحاوي في شرح المشكل ٨/ ٢٧٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39391، ترقيم محمد عوامة 37785)