حدیث نمبر: 39390
٣٩٣٩٠ - حدثنا أبو أسامة عن (مجالد) (١) قال: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى جدي وهذا كتابه عندنا: "بسم اللَّه الرحمن الرحيم من محمد رسول اللَّه (٢) إلى عمير ذي مران وإلى من أسلم من همدان، سلام عليكم فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد (ذلكم) (٣)، فإنه بلغنا إسلامكم مرجعنا من أرض الروم، فأبشروا فإن اللَّه قد هداكم بهداه، وإنكم إذا شهدتم أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه وأقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة فإن لكم ذمة اللَّه وذمة محمد رسول اللَّه (٤) على دمائكم وأموالكم وأرض البون التي أسلمتم عليها سهلها وجبلها و (غيولها) (٥) ومراعيها غير مظلومين ولا مضيق عليكم فإن الصدقة لا تحل لمحمد وأهل بيته، وإنما هي زكاة تزكون بها أموالكم لفقراء المسلمين، وإن مالك بن مرارة الرهاوي حفظ الغيب وبلغ الخبر وآمرك به يا ذامران خيرا، فإنه منظور إليه، وكتب علي بن أبي طالب والسلام عليكم وليحييكم ربكم" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مجاہد فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے دادا کو خط تحریر فرمایا تھا۔ اور یہ ہمارے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نامہ مبارک ہے۔ ” شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔ یہ خط ذی مُرَّان عمیر کی طرف اور ہمدان کے مسلمانوں کی طرف ہے۔ تم پر سلام ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے بعد ! ہمیں ارض روم سے واپسی پر تمہارے اسلام کی خبر پہنچی ہے۔ پس تمہارے لیے بشارت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ہدایت میں سے ہدایت بخشی ہے۔ اور جب تم نے لوگوں اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور تم نے نماز کو قائم کیا اور تم نے زکوٰۃ کو ادا کیا۔ تو پس تمہارے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمہارے اموال اور خون پر ذمہ ہے اور وہ درمیانی زمین جس پر تم اسلام لائے ہو اس کا ہموار رقبہ، اس کے پہاڑ، اس کے چشمے اور اس کی چراگاہیں تمہاری ہیں۔ نہ تم پر ظلم کیا جائے گا اور نہ تمہیں تنگ کیا جائے گا۔ پس بلاشبہ صدقہ (کا مال) محمد اور اہل بیت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے حلال نہیں ہے۔ یہ تو وہ زکوۃ ہے جس کے ذریعہ تم اپنے مالوں کو یہ زکوۃ مسلمانوں فقراء کو دے کر پاک کرو گے۔ بیشک مالک بن مرارہ رہاوی نے غیب کی باتوں کو یاد کیا اور خبر کو آگے پہنچایا ۔ اور اے ذی مران ! میں تمہیں اس کے ساتھ خیر کا حکم کرتا ہوں کیونکہ یہ منظور نظر ہے۔ اور یہ خط علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے لکھا ہے۔ والسلام علیکم۔ تمہارا رب تم پر سلامتی بھیجے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (مجاهد).
(٢) في [ي]: زيادة ﷺ.
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) في [جـ، ق]: زيادة ﷺ.
(٥) غيولها: أنهارها ومجاري مياهما، وفي [ق، هـ]: (عيونها).
(٦) معضل؛ مجالد ضعيف، أخرجه ابن أبي عمر العدني في الإيمان (٧٨)، وورد من حديث مجالد بن سعيد بن عمير عن أبيه عن جده، أخرجه الطبراني ١٧/ (١٠٧)، وابن عدي ٦/ ٤٢٠، وورد من حديث مجالد عن الشعبي عن عامر بن شهر أخرجه أبو داود (٣٠٢٧)، وأبو يعلى (٦٨٦٤)، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ١٢٢، وابن سعد ٦/ ٢٨.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39390
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39390، ترقيم محمد عوامة 37784)