حدیث نمبر: 39389
٣٩٣٨٩ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن يعقوب عن جعفر بن عمرو قال: بعث رسول اللَّه ﷺ أربعة نفر إلى أربعة وجوه: رجلا إلى كسرى، ورجلا إلى قيصر، ورجلا إلى المقوقس، وبعث عمرو بن أمية إلى النجاشي، فأصبح كل رجل منهم يتكلم بلسان القوم الذين بعث إليهم، فلما أتى عمروُ بن أمية النجاشي وجد لهم بابا صغيرا يدخلون منه مكفرين (١)، فلما رأى عمرو ذلك ولى ظهره القهقري، قال: فشق ذلك على الحبشة في مجلسهم عند النجاشي حتى هموا به حتى قالوا للنجاشي: إن هذا لم يدخل كما دخلنا، قال: ما منعك أن تدخل كما دخلوا؟ قال: إنا لا نصنع هذا بنبينا (٢)، ولو صنعناه بأحد صنعناه به، قال: صدق، قال: دعوه، قالوا للنجاشي: هذا يزعم أن عيسى (٣) مملوك، قال: فما تقول في عيسى (٤)؟ قال: كلمة ⦗٤١١⦘ اللَّه وروحه، قال: (ما استطاع) (٥) عيسى أن يعدو ذلك (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جعفر بن عمرو کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار افراد کو چار افراد کی طرف قاصد بنا کر بھیجا۔ ایک آدمی کو کسریٰ کی طرف۔ ایک آدمی کو قیصر کی طرف، ایک آدمی کو مقوقس کی طرف اور عمرو بن امیہ کو نجاشی کی طرف۔ ان میں سے ہر ایک آدمی اس قوم کی زبان بولنے والا ہوگیا جن کی طرف انہیں (قاصد بنا کر) بھیجا گیا تھا۔ پس جب حضرت عمرو بن امیہ ، نجاشی کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے انکے ہاں ایک چھوٹا دروازہ پایا جس میں سے لوگ جھک کر گزرتے تھے۔ پس جب حضرت عمرو نے یہ دیکھا تو آپ الٹے پاؤں واپس ہو لئے۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات نجاشی کی مجلس میں بیٹھے حبشی لوگوں کو شاق گزری یہاں تک کہ انہوں نے ان کا ارادہ کیا۔ اور یہاں تک کہ انہوں نے نجاشی بادشاہ سے کہا۔ یہ آدمی اس طرح اندر نہیں داخل ہوا جس طرح ہم داخل ہوتے ہیں۔ نجاشی نے پوچھا۔ تمہیں لوگوں کی طرح اندر داخل ہونے سے کس چیز نے منع کیا ہے ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : ہم یہ کام اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں کرتے اور اگر ہم یہ کام کسی کے ساتھ کرتے تو ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہ کام کرتے۔ نجاشی نے کہا۔ اس نے سچ کہا ہے اور نجاشی نے کہا۔ اس کو چھوڑ دو ۔ لوگوں نے نجاشی سے کہا۔ اس آدمی کا گمان ہے کہ عیسیٰ مملوک ہیں۔ نجاشی نے پوچھا : تم عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ حضرت عمرو نے فرمایا : وہ اللہ کا کلمہ اور روح اللہ ہیں ۔ نجاشی نے کہا۔ عیسیٰ اس بات سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ (یعنی واقعۃً ایسا ہی ہے)

حواشی
(١) أي: ذليلين.
(٢) في [ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٣) في [ي]: زيادة ﵇.
(٤) في [ي]: زيادة ﵇.
(٥) في [أ]: (ما استطل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39389
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ جعفر تابعي، ويعقوب مجهول، أخرجه الطبراني في الأوسط (٤٨٩)، وابن عساكر ٤٥/ ٤٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39389، ترقيم محمد عوامة 37783)