مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه باب: وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
٣٩٣٨٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الرحمن بن حرملة الأسلمي قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: كتب رسول اللَّه ﷺ إلى كسرى وقيصر والنجاشي: "أما بعد، تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا اللَّه، ولا نشرك به شيئا، ولا (يتخذ) (١) بعضنا بعضا أربابا من دون اللَّه، فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون"، قال سعيد بن المسيب: فمزق كسرى الكتاب ولم ينظر فيه، قال نبي اللَّه: "مزق ومزقت أمته"، فأما النجاشي فآمن (٢) من كان عنده، وأرسل إلى رسول اللَّه ﷺ بهدية حلة، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اتركوه ما ترككم"، وأما قيصر فقرأ ⦗٤١٠⦘ كتاب رسول اللَّه ﷺ فقال: هذا كتاب لم أسمع به بعد سليمان النبي (٣) بسم اللَّه الرحمن الرحيم، ثم أرسل إلى (أبي) (٤) سفيان والمغيرة بن شعبة كانا تاجرين بأرضه، فسألهما عن بعض شأن رسول اللَّه ﷺ وسألهما: من تبعه؟ فقالا: تبعه النساء وضعفة الناس، فقال: أرأيتما الذين يدخلون معه ويرجعون؟ قالا: لا، قال: هو نبي، ليملكن ما تحت قدميّ، لو كنت عنده لقبلت قدميه (٥).حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کو خط لکھا۔ اما بعد ! ” ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہے (اور وہ یہ ہے) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں “ پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو ” گواہ رہنا ہم مسلمان ہیں۔ حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں : کسریٰ نے خط کو پھاڑ دیا اور اس کو دیکھا ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ خود پھٹ گیا ہے اور اس کی امت بھی پھٹ گئی ہے۔ اور نجاشی نے ایمان قبول کرلیا اور اس کے پاس جو لوگ تھے وہ بھی ایمان لے آئے۔ اور اس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جوڑا ہدیہ میں بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تک وہ تمہیں چھوڑے رکھے تم بھی ا ن کو چھوڑ دو ۔ اور قیصر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پڑھا اور کہا۔ میں نے سلیمان نبی کے خط کے بعد بسم اللّٰہ الرحمان الرحیم والا خط نہیں سُنا۔ پھر اس نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ کی طرف قاصد بھیجا۔ یہ دونوں ارض قیصر میں تاجر کی حیثیت سے موجود تھے۔ قیصر نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض احوال کے متعلق سوال کیا۔ اور ان سے یہ سوال کیا ۔ کون لوگ اس کے تابع دار ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ان کے پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اور عورتیں ہیں۔ پھر اس نے پوچھا : یہ بتاؤ ! جو لوگ اس کے پاس گئے ہیں وہ واپس پلٹے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں ! قیصرنے کہا ۔ یہ شخص نبی ہے۔ میرے قدموں کے نیچے والے حصہ زمین پر یہ شخص ضرور بالضرور تمکن حاصل کرے گا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم چوم لیتا۔