حدیث نمبر: 39386
٣٩٣٨٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن أنس أن أبا بكر كان رديف النبي ﷺ من مكة إلى المدينة، وكان أبو بكر يختلف إلى الشام، فكان يعرف وكان النبي ﵊ لا يعرف، فكانوا يقولون: يا أبا بكر من هذا الغلام بيهت يديك؟ قال: (هاد) (١) يهديني السبيل، قال: فلما دنوا من المدينة نزلا الحرة و (بعثا) (٢) إلى الأنصار فجاؤوا، قال: فشهدته يوم دخل المدينة فما رأيت يوما كان أحسن ولا أضوأ من يوم دخل علينا فيه، وشهدت يوم مات فما رأيت يوما كان أقبح ولا أظلم من يوم مات فيه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ، مکہ سے لے کر مدینہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ردیف تھے۔ اور حضرت ابوبکر شام کی طرف آیا جایا کرتے تھے۔ تو آپ پہچانے جاتے تھے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہچانے نہیں جاتے تھے۔ تو لوگ پوچھتے تھے۔ اے ابوبکر ! آپ کے آگے یہ نوجوان کون ہیں ؟ حضرت ابوبکر فرماتے ۔ یہ رہبر ہیں مجھے راستہ دکھاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب دونوں مدینہ کے قریب پہنچے۔ دونوں حرہ میں اترے۔ انصار کی طرف کسی کو بھیجا گیا تو وہ بھی تشریف لے آئے۔ حضرت انس کہتے ہیں۔ میں نے اس دن میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔ تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ خوبصورت اور روشن نہیں دیکھا جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اور پھر جس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی میں تب بھی حاضر تھا تو میں نے کوئی دن اس دن سے زیادہ بُرا اور اندھیرے والا نہیں دیکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی۔

حواشی
(١) في [س]: (هذا).
(٢) في [س]: (بعثنا)، وفي [ح]: (بعث).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39386
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٠٦٣)، وأخرج بعضه ابن ماجه (١٦٣١)، والترمذي (٣٦١٨)، وابن حبان (٦٦٣٤)، والحاكم ٣/ ٥٧، والدارمي (٨٨)، وأبو يعلى (٣٢٩٦)، والبغوي (٣٨٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39386، ترقيم محمد عوامة 37780)