حدیث نمبر: 39383
٣٩٣٨٣ - حدثنا خالد بن مخلد عن علي بن مسهر عن هشام بن عروة عن أبيه عن أسماء ابنة أبي بكر أنها هاجرت إلى رسول اللَّه ﷺ وهي حبلى بعبد اللَّه بن الزبير، فوضعته بقُباء فلم ترضعه حتى أتت به النبي ﷺ، فأخذه فوضعه في حجره فطلبوا تمرة ليحنكوه حتى وجدوها فحنكوه، فكان أولَ شيء دخل بطنه (ريقُ) (١) رسول اللَّه ﷺ وسماه عبد اللَّه (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسما بنت ابی بکر روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اس حالت میں ہجرت کی کہ وہ عبد اللہ بن زبیر کو حمل میں اٹھائے ہوئے تھی۔ پس قباء کے مقام پر یہ حمل وضع ہوا۔ تو انہوں نے نومولود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچنے تک دودھ پلایا، یہاں تک کہ اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑا اور اسے اپنی گود مبارک میں رکھا۔ لوگوں نے کھجور کی تلاش شروع کی۔ تاکہ اس کو تحنیک دے سکیں۔ پس سب سے پہلی شئی جو ان کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھوک تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔

حواشی
(١) في [ي]: (رين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39383
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خالد صدوق، والخبر أخرجه البخاري (٣٩٠٩)، ومسلم (٢١٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39383، ترقيم محمد عوامة 37777)