حدیث نمبر: 39371
٣٩٣٧١ - حدثنا عفان قال: حدثنا شعبة عن أبي إسحاق قال: سمعت البراء يقول: أول من قدم علينا من أصحاب رسول اللَّه ﷺ مصعب بن عمير وابن أم مكتوم، فجعلا يقرئان الناس القرآن، ثم جاء عمار وبلال وسعد، ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين راكبا، ثم جاء رسول اللَّه ﷺ، (قال) (١): فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء قط فرحهم به، قال: فما قدم حتى قرأت: ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ في (سور) (٢) من المفصل (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء کو کہتے سُنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم تشریف لائے اور ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار ، بلال اور سعد تشریف لائے پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کی جمعیت میں تشریف لائے۔ پھر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے اہل مدینہ کو اس بات سے زیادہ کسی چیز پر فرحاں و شاداں نہیں دیکھا۔ براء کہتے ہیں ۔ (ابھی) کوئی ایک بھی صحابی نہیں آیا تھا اور میں نے { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الأَعْلَی } مفصل سورتوں میں پڑھ لی تھی۔

حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [س]: (سورة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39371
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٩٤١)، وأحمد (١٨٥١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39371، ترقيم محمد عوامة 37766)