مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما قالوا: في مهاجر النبي ﷺ وأبي بكر وقدوم من قدم باب: جو باتیں محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
٣٩٣٦٩ - حدثنا أبو أسامة عن بن عون عن عمير بن إسحاق قال: لما خرج رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر -يعني إلى المدينة- تبعهما سراقة بن مالك فلما أتاهما قال: هذان فرا من قريش لو رددت على قريش فرها، قال: فعطف فرسه عليهما فساخت الفرس، فقال: ادعو اللَّه أن يخرجها ولا أقرُبكما، قال: (فخرجت) (١) (فعادت) (٢) حتى فعل ذلك مرتين أو ثلاثًا، قال: فكف، ثم قال: هلما إلى الزاد (والحملان) (٣) فقالا: لا نريد ولا حاجة لنا في ذلك (٤).حضرت عمر بن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر مدینہ کی طرف نکلے تو سراقہ بن مالک بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔ پس جب ان کے پاس آیا تو کہنے لگا۔ یہی دو شخص قریش کو مطلوب ہیں۔ کاش میں قریش کو ان کے مطلوبہ افراد واپس لوٹا دوں۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اپنا گھوڑا ان دو حضرات کی طرف دوڑایا تو گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا۔ آپ دونوں اللہ سے دعا کریں کہ وہ گھوڑے کو باہر نکال دے۔ میں آپ لوگوں کے قریب نہیں آؤں گا۔ راوی کہتے ہیں : پس گھوڑا باہر نکل گیا۔ تو سراقہ نے پھر پہلے والی حرکت کی ۔ حتی کہ یہ دو یا تین مرتبہ ہوا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر سراقہ رُک گیا۔ پھر کہنے لگا۔ آپ آئیں۔ یہ توشہ اور سواری لے لیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا ارادہ نہیں ہے اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔