حدیث نمبر: 39369
٣٩٣٦٩ - حدثنا أبو أسامة عن بن عون عن عمير بن إسحاق قال: لما خرج رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر -يعني إلى المدينة- تبعهما سراقة بن مالك فلما أتاهما قال: هذان فرا من قريش لو رددت على قريش فرها، قال: فعطف فرسه عليهما فساخت الفرس، فقال: ادعو اللَّه أن يخرجها ولا أقرُبكما، قال: (فخرجت) (١) (فعادت) (٢) حتى فعل ذلك مرتين أو ثلاثًا، قال: فكف، ثم قال: هلما إلى الزاد (والحملان) (٣) فقالا: لا نريد ولا حاجة لنا في ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر بن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر مدینہ کی طرف نکلے تو سراقہ بن مالک بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔ پس جب ان کے پاس آیا تو کہنے لگا۔ یہی دو شخص قریش کو مطلوب ہیں۔ کاش میں قریش کو ان کے مطلوبہ افراد واپس لوٹا دوں۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اپنا گھوڑا ان دو حضرات کی طرف دوڑایا تو گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے کہا۔ آپ دونوں اللہ سے دعا کریں کہ وہ گھوڑے کو باہر نکال دے۔ میں آپ لوگوں کے قریب نہیں آؤں گا۔ راوی کہتے ہیں : پس گھوڑا باہر نکل گیا۔ تو سراقہ نے پھر پہلے والی حرکت کی ۔ حتی کہ یہ دو یا تین مرتبہ ہوا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر سراقہ رُک گیا۔ پھر کہنے لگا۔ آپ آئیں۔ یہ توشہ اور سواری لے لیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا ارادہ نہیں ہے اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (فخرج).
(٢) سقط من: [أب، جـ، س].
(٣) في [أ]: (والمجلان).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39369
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمير تابعي، وأخرجه ابن سعد ١/ ٢٣٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39369، ترقيم محمد عوامة 37764)