مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما قالوا: في مهاجر النبي ﷺ وأبي بكر وقدوم من قدم باب: جو باتیں محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام ہجرت کے بارے میں کہی ہیں اور آنے والوں کے آنے کے بارے میں
٣٩٣٦٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه وفاطمة عن أسماء قالت: صنعت سفرة النبي ﷺ في بيت أبي بكر حين أراد أن يهاجر إلى المدينة، قالت: فلم نجد لسفرته ولا لسقائه ما نربطهما به، فقلت لأبي بكر: واللَّه ما أجد شيئا أربط به إلا نطاقي، (قالت: فقال) (٢): شقيه باثنين، فاربطي بواحد السقاء وبالآخر السفرة، فلذلك سُميتُ ذات النطاقين (٣).حضرت اسمائ بیان فرماتی ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا تو میں نے ابوبکر کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے توشہ دان تیار کیا۔ بیان کرتی ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توشہ دان اور پانی کی مشک کے لئے کوئی چیز نہیں ملی جس سے ہم ان دونوں کو باندھتے۔ میں نے ابوبکر سے کہا : بخدا ! مجھے باندھنے کے لئے کوئی چیز (رسی وغیرہ) نہیں ملتی سوائے اپنے پٹکے کے۔ فرماتی ہیں : سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا : اسی (پٹکے) کو دو حصوں میں پھاڑ لو۔ اور ایک کے ذریعہ سے پانی کی مشک کو باندھ دو اور دوسرے سے توشہ دان کو۔ اسی وجہ سے حضرت اسمائ کا نام ذات النطاقین معروف ہوگیا۔