٣٩٣٤٦ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: أول من أظهر الإسلام سبعة: رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وبلال وخباب وصهيب وعمار (وسمية) (١) أم عمار، فأما رسول اللَّه ﷺ فمنعه عمه، وأما أبو بكر فمنعه قومه، وأُخذ الآخرون فألبسوا أدراع الحديد ثم صهروهم في الشمس حتى بلغ الجهدُ منهم كلَّ مبلغ، فأعطوهم ما سألوا، فجاء إلى كل رجل منهم قومه بأنطاع الأَدَم فيها الماء فألقوهم فيها ثم حملوا بجوانبه إلا بلال، فلما كان (العشي) (٢) جاء أبو جهل فجعل يشتم سمية ويرفث: ثم طعنها فقتلها فهي أول شهيد استشهد في الإسلام إلا (بلال) (٣)، فإنه هانت عليه نفسه في اللَّه حتى ملوا فجعلوا في عنقه حبلا ثم أمروا صبيانهم فاشتدوا به بين أخشبي مكة وجعل يقول: أحد أحد (٤).حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ شروع میں اسلام کا اظہار کرنے والے سات لوگ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ابوبکر ، حضرت بلال ، حضرت خباب ، حضرت صہیب ، حضرت عمار ، ام عمار حضرت سمیہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (کفار کے لئے) ان کے چچا مانع بن گئے اور حضرت ابوبکر کی طرف سے (کفار کے لئے) ان کی قوم مانع بن گئی اور دیگر لوگ پکڑ لئے گئے اور انہیں لوہے کی قمیصیں پہنائی گئیں۔ پھر کفار نے ان کو سورج میں تپنے کے لئے چھوڑ دیا ۔ حتی کہ ان کی مشقت انتہا درجہ کو پہنچ گئی تو انہوں نے سوال کیا ان کے سوال کو پورا کردیا۔ پس ان میں سے ہر آدمی کی قوم اس کے پاس آئی جس میں پانی تھا اور انہیں اس میں ڈال دیا۔ پھر اس کی اطراف سے اٹھا لیا۔ سوائے حضرت بلال کے۔ پھر جب رات ہوئی تو ابو جہل آیا اور حضرت سمیّہ کو سبّ و شتم کرنے لگا پھر ابو جہل نے ان کو نیزہ مارا اور قتل کردیا۔ پس یہ اسلام میں شہید ہونے والی پہلی شہیدہ ہیں۔ سو حضرت بلال نے اپنی جان کو اللہ کے لئے بےوقعت سمجھ لیا ۔ یہاں تک کہ مشرکین بےتاب ہوگئے اور انہوں نے آپ کی گردن میں رسی ڈال دی پھر مشرکین نے اپنے بچوں کو حکم دیا اور انہوں نے حضرت بلال کو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان گھسیٹنا شروع کیا۔ اور حضرت بلال نے احدٌ احدٌ کہنا شروع کیا۔