مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
حديث المعراج حين أسري بالنبي ﷺ باب: معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
٣٩٣٣٧ - حدثنا علي بن مسهر عن أبي إسحاق الشيباني عن عبد اللَّه بن شداد قال: لما أسري بالنبي ﷺ أتي بدابة فوق الحمار (و) (١) دون البغل، يضع (حافره) (٢) ⦗٣٧٨⦘ عند منتهى طرفه، يقال له: براق، فمر رسول اللَّه ﷺ بعير للمشركين فَنَفَرَتْ فقالوا: يا هؤلاء ما هذا؟ قالوا: ما نرى شيئا ما هذه إلا ريح، حتى (أتى) (٣) بيت المقدس فأتي بإناءين في واحد خمر وفي الآخر لبن، فأخذ النبي ﷺ اللبن فقال له (جبريل) (٤): هديت وهديت أمتك-، ثم (سار) (٥) إلى (مصر) (٦) (٧).حضرت عبد اللہ بن شداد سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رات کو سیر کروائی گئی تو ایک گدھے سے بڑا ، خچر سے چھوٹا ایک جانور لایا گیا۔ وہ اپنی منتہی نظر پر اپنا قدم رکھتا تھا۔ اس کو براق کہا جاتا تھا۔ پس اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے اونٹوں کے قافلے کے پاس سے گزرے تو وہ بدک گئے مشرکین نے کہا : یارو ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں تو کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ یہ تو فقط ہوا ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو برتن لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور دوسرے میں دودھ تھا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ (والا برتن) پکڑ لیا تو جبرائیل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا۔ آپ کی راہ راست کی طرف راہنمائی کی گئی ہے اور آپ کی امت کو درست راہنمائی کی گئی ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہر کی طرف چلے۔