مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
حديث المعراج حين أسري بالنبي ﷺ باب: معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
حدیث نمبر: 39336
٣٩٣٣٦ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس بن مالك قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "مررت ليلة أسري بي على قوم (تقرض) (١) شفاههم بمقاريض من نار، (فقلت) (٢): من هولاء؟ قيل: هؤلاء خطباء من أهل الدنيا ممن (كانوا) (٣) (يأمرون) (٤) الناس بالبر وينسون (أنفسهم) (٥) وهم يتلون الكتاب أفلا (يعقلون) (٦) " (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس رات مجھے سیر کروائی گئی اس رات میں ایک ایسی قوم پر سے گزرا جن کے ہونٹوں کو جہنم کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا۔ میں نے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ اہل دنیا کے وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے۔ اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے۔ کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے ؟
حواشی
(١) في [ب]: (يفرض).
(٢) في [أ، ب]: (قلت).
(٣) في [أ، ب، س]: (كان).
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ي]: (يأمر).
(٥) في [ب]: (أنفسكم)
(٦) في [ب، س]: (تعقلون).