حدیث نمبر: 39331
٣٩٣٣١ - حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف (عن) (١) زرارة بن أوفى قال: قال ابن عباس: قال رسول اللَّه ﷺ: "لما كان ليلة أسري بي أصبحت بمكة ⦗٣٧٤⦘ قال: (فظعت) (٢) بأمري وعرفت أن الناس مكذبي"، فقعد رسول اللَّه ﷺ معتزلا حزينا، فمر به أبو جهل فجاء حتى جلس إليه فقال كالمستهزئ: هل كان من شيء؟ قال: "نعم"، قال: وما هو؟ قال: "أسري بي الليلة"، قال: إلى أين؟ قال: "إلى بيت المقدس"، قال: ثم أصبحت بين أظهرنا؟ قال: "نعم"، فلم (يُره) (٣) أنه يكذبه مخافة أن يجحد الحديث إن دعا قومه إليه، قال: أتحدث قومك ما حدثتني إن دعوتهم إليك؟ قال: "نعم"، قال: هيا معشر بني كعب بن لؤي هلم، قال: فتنفضت المجالس فجاؤوا حتى جلسوا إليهما، فقال: حدث قومك ما حدثتني، قال رسول اللَّه ﷺ: "إني أسري بي الليلة"، قالوا: إلى أين؟ قال: "إلى بيت المقدس"، قالوا: ثم أصبحت بين (ظهرانينا؟) (٤) قال: "نعم"، قال: فمن بين مصفق ومن بين واضع (يده) (٥) على رأسه متعجبا (للكذب) (٦) زعم، وقالوا: أتستطيع أن تنعت لنا المسجد؟ قال: وفي القوم من سافر إلى ذلك البلد ورأى المسجد، قال رسول اللَّه ﷺ: "فذهبت أنعت لهم، فما زلت أنعت (وأنعتُ) (٧) حتى التبس علي بعض النعت، فجيء بالمسجد وأنا أنظر إليه حتى وضع دون دار عقيل أو دار عقال، (فنعته) (٨) وأنا أنظر إليه"، فقال القوم: أما النعت فواللَّه لقد أصاب (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زرارہ بن اوفی روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس رات کو مجھے اسراء کروایا گیا میں نے (اس کی) صبح مکہ میں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ میں اپنے معاملہ (معراج) کی وجہ سے گھبرایا ہوا تھا اور میں جانتا تھا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیحدہ اور غمگین ہو کر بیٹھ گئے تو ابو جہل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور استہزاء کرنے والے کی طرح پوچھا : کیا کچھ (نئی) بات ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ابو جہل نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ ابو جہل نے پوچھا : کہاں کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس کی طرف۔ ابو جہل نے کہا۔ پھر (سیر کے بعد) آپ نے صبح ہمارے درمیان کی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ابو جہل کی رائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی نہ ہوئی۔ اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کو بلائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کا انکار نہ کردیں۔ ابو جہل نے کہا۔ اگر میں تمہاری قوم کو تمہاری طرف بلاؤں تو کیا تم انہیں بھی وہ بات بیان کروگے جو تم نے مجھے بیان کی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! ابو جہل نے کہا : اے بنی کعب بن لوی کی جماعتو ! آ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس تمام لوگ آگئے یہاں تک کہ لوگ ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ تو ابو جہل نے کہا۔ جو بات آپ نے مجھے بیان کی تھی وہ بات اپنی قوم کے سامنے بیان کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے آج کی رات سیر کروائی گئی ہے۔ لوگوں نے پوچھا : کہاں کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیت المقدس کی۔ لوگوں نے کہا۔ پھر آپ نے صبح ہمارے درمیان کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں ! راوی کہتے ہیں : کچھ لوگ، تالیاں بجانے لگے اور کچھ لوگوں نے اس بات کو جھوٹ سمجھ کر تعجب کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنے سر پر رکھ لیا۔ اور کہا : کیا آپ ہمارے لئے مسجد (اقصیٰ ) کی نعت (صفت) بیان کرسکتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں افراد بھی تھے جنہوں نے اس شہر کا سفر کیا تھا اور مسجد اقصیٰ کو دیکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔ پس میں نے ان کے لئے (مسجد کی) صفت بیان کرنا شروع کی۔ اور میں مسلسل صفت بیان کرتا رہا۔ یہاں تک کہ بعض اوصافِ مسجد مجھ پر ملتبس ہوگئے تو مسجد کو (سامنے) لایا گیا اور میں مسجد کو دیکھنے لگا۔ یہاں تک کہ مسجد کو دارعقیل یا دارعقال سے پرے رکھ دیا گیا۔ پس میں نے مسجد کی نعت (صفت) بیان کی جبکہ میں مسجد کی طرف دیکھ رہا تھا۔ لوگوں نے کہا ۔ (مسجد کی) صفت تو بخدا بالکل درست (بیان کی) ہے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، س، ق]: (قطعت).
(٣) في [جـ]: (ير)، وفي [هـ]: (يرد).
(٤) في [س]: (أظهرينا)، وفي [جـ، ي]: (ظهرينا).
(٥) في [س]: (يديه).
(٦) في [ق]: (للذي).
(٧) سقط من: [ط، هـ].
(٨) في [س]: تكرر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39331
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٨١٩)، والنسائي في الكبرى (١١٢٨٥)، والطبراني (١١٧٨٢)، والبزار (٥٦/ كشف)، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٦٣، والفاكهي (٢١٠٠)، والضياء في المختارة ١٠/ ٣٩، وابن عساكر ٤١/ ٢٣٥، وأبو نعيم في الدلائل (٧٥)، والحارث (٢١/ بغية)، والآجري في الشريعة (١٠٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39331، ترقيم محمد عوامة 37727)