مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
حديث المعراج حين أسري بالنبي ﷺ باب: معراج کی احادیث، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا
٣٩٣٢٩ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا الحسن بن موسى (بن) (٢) الأشيب قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا ثابت عن أنس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "أتيت بالبراق وهو دابة أبيض فوق الحمار ودون البغل، يضع (حافره) (٣) عند منتهى طرفه، فركبته فسار بي حتى أتيت بيت المقدس فربطت الدابة بالحلقة التي (كان) (٤) (يربط) (٥) بها الأنبياء ﵈ (٦)، ثم دخلت فصليت فيه ركعتين، ثم خرجت فجاءني جبريل بإناء من خمر وإناء من لبن فاخترت اللبن، فقال (جبريل) (٧): أصبت الفطرة، ⦗٣٧٠⦘ قال: ثم عرج بنا إلى السماء (الدنيا) (٨) فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ (فقال) (٩): جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد (١٠)، فقيل: وقد أرسل إليه؟ فقال: قد أُرسل (إليه) (١١)، ففتح لنا فإذا أنا بآدم فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثانية فاستفتح جبريل فقيل: (و) (١٢) من أنت؟ قال: جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد (١٣)، فقيل: وقد أُرسل إليه؟ (قال) (١٤): قد أرسل إليه، (ففتح) (١٥) لنا فإذا أنا (بابني) (١٦) الخالة: (يحيى) (١٧) وعيسى فرحبا ودعوا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء الثالثة فاستفتح جبريل فقيل: (١٨) من أنت؟ (فقال) (١٩): جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد (٢٠)، (قالوا) (٢١): وقد أرسل إليه؟ قال: (قد) (٢٢) أرسل إليه، ففتح لنا فإذا أنا [بيوسف وإذا هو قد أعطي شطر الحسن، (فرحب) (٢٣) ودعا لي بخير، ثم عرج بنا ⦗٣٧١⦘ إلى السماء الرابعة فاستفتح جبريل فقيل: (٢٤) من أنت؟ (فقال) (٢٥): جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد ﷺ، فقيل: وقد أرسل إليه؟ فقال: قد أرسل إليه، ففتح لنا فإذا (أنا) (٢٦)] (٢٧) بإدريس (٢٨) فرحب ودعا لي بخير، ثم قال: يقول اللَّه: ﴿وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا﴾ [مريم: ٥٧]، ثم عرج بنا إلى السماء الخامسة (فاستفتح جبريل) (٢٩) فقيل: من أنت؟ (قال) (٣٠): جبريل، فقيل: ومن معك؟ (فقال) (٣١): محمد (٣٢)، (فقيل) (٣٣): وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح لنا فإذا أنا بهارون فرحب بي (ودعا لي) (٣٤) بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السادسة فاستفتح جبريل فقيل: من أنت؟ قال: جبريل، فقيل: ومن معك؟ قال: محمد، فقيل: وقد بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، (ففتح لنا) (٣٥) فإذا أنا بموسى (٣٦) فرحب ودعا لي بخير، ثم عرج بنا إلى السماء السابعة فاستفتح جبريل (فقيل) (٣٧): من أنت؟ (قال) (٣٨): جبريل، ⦗٣٧٢⦘ (فقيل) (٣٩): ومن معك؟ قال: محمد، فقيل: (وقد) (٤٠) بعث إليه؟ قال: قد بعث إليه، ففتح (لنا) (٤١) فإذا أنا (بإبراهيم) (٤٢)، وإذا هو (مستند) (٤٣) إلى البيت المعمور، وإذا هو يدخله كل يوم سبعون ألف ملك لا يعودون إليه، ثم ذهب بي إلى (سدرة) (٤٤) المنتهى فإذا ورقها كآذان الفيلة وإذا ثمرها أمثال القلال، فلما غشيها من أمر اللَّه ما غشيها تغيرت، فما أحد من خلق اللَّه يستطيع أن يصفها من حسنها، قال: فأوحى اللَّه إليَّ ما أوحى، وفرض عليَّ في كل يوم (وليلة) (٤٥) خمسين صلاة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى فقال: ما فرض ربك على أمتك؟ قال: قلت: خمسين صلاة في كل يوم وليلة، فقال: ارجع إلى ربك (فاسأله) (٤٦) التخفيف فإن أمتك لا تطيق ذلك، فإني قد بلوت بني إسرائيل وخبرتهم، قال: فرجعت إلى ربي (فقلت) (٤٧) له: رب خفف (عن) (٤٨) أمتي فحط عني خمسا فرجعت إلى موسى فقال: ما فعلت؟ فقلت: حط عني خمسا، قال: (إن) (٤٩) أمتك لا تطيق ذلك، فارجع إلى ربك (فاسأله) (٥٠) التخفيف (لأمتك) (٥١)، فلم أزل أرجع بين ربي وبين ⦗٣٧٣⦘ (موسى ﵇ (٥٢) فيحط عني خمسا خمسا حتى قال. يا محمد هي خمس صلوات في كل يوم وليلة، بكل صلاة (عشر) (٥٣)، فتلك خمسون صلاة، ومن هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة، فإن عملها كتبت (له) (٥٤) عشرا، ومن هم بسيئة ولم يعملها (لم) (٥٥) تكتب له شيئًا، فإن عملها كتبت (٥٦) سيئة واحدة، فنزلت حتى انتهيت إلى موسى (٥٧) فأخبرته، فقال: ارجع إلى ربك (فاسأله) (٥٨) التخفيف لأمتك، فإن أمتك لا تطيق ذلك فقال رسول اللَّه ﷺ: لقد رجعت إلى ربي حتى (استحييت) (٥٩) (٦٠).حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” میرے پاس براق کو لایا گیا۔ یہ ایک سفید جانور تھا۔ گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا تھا۔ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں نظر پڑتی تھی۔ پس میں اس پر سوار ہوا اور یہ جانور مجھے لے کر چلا یہاں تک کہ مں چ بیت المقدس میں پہنچا۔ اور میں نے جانور کو اس حلقہ کے ساتھ باندھا جس حلقہ کے ساتھ انبیاء باندھا کرتے تھے۔ پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا اور میں نے وہاں دو رکعات نماز پڑھی پھر میں وہاں سے نکلا تو جبرائیل میرے پاس ایک برتن شراب کا اور ایک برتن دودھ کا لائے۔ میں نے دودھ کا انتخاب کرلیا۔ تو جبرائیل نے کہا۔ آپ نے فطرت سلیمہ کے مطابق درست کام کیا ہے۔ ٢۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : پھر ہمیں آسمان دنیا پر لے جایا گیا۔ اور جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا : پوچھا گیا :ـ تم کون ہو ؟ جبرائیل نے کہا : جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پوچھا گیا ۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں آدم سے ملا ۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے خیر کی دعا کی۔ پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ جبرائیل نے کہا : جبرائیل ۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پوچھا گیا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ تو ناگہاں میں اپنے دو خالہ زاد یحییٰ اور عیسیٰ سے ملا۔ ان دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ ٣۔ پھر ہمیں تیسرے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ تو پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا : جبرائیل ! پھر پوچھا گیا۔ آپ کے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرشتوں نے پوچھا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پس ہمارے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ پس اچانک میں یوسف سے ملا ۔ اور انہیں تو حسن کا ایک بڑا حصہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعاء خیر کی۔ پھر ہمیں چوتھے آسمان پر لے جایا گیا تو جبرائیل نے دروازہ کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا۔ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرشتوں نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا : تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میری حضرت ادریس سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ورفعناہُ مکاناً علیًا۔ ٤۔ پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا۔ پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا : جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا : اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہیں۔ پوچھا گیا ۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا۔ پس اچانک میری ملاقات حضرت ہارون سے ہوئی ۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف چڑھایا گیا۔ جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا ۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پوچھا گا ۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پوچھا گیا ۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا ۔ تو اچانک میری ملاقات حضرت موسیٰ سے ہوئی انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لئے دعائے خیر کی۔ ٥۔ پھر ہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھا یا گیا۔ پس جبرائیل نے (دروازہ) کھولنے کا کہا تو پوچھا گیا۔ تم کون ہو ؟ انہوں نے جواب دیا۔ جبرائیل ہوں۔ پھر پوچھا گیا۔ اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ نہوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ پھر پوچھا گیا۔ (کیا) ان کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ جبرائیل نے کہا۔ تحقیق ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ پھر ہمارے لئے (دروازہ) کھول دیا گیا تو اچانک میں ابراہیم سے ملا ۔ اور وہ بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور (یہ وہ جگہ ہے کہ جب) اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو پھر دوبارہ نہیں آئیں گے۔ ٦۔ پھر مجھے سدرۃ المنتہٰی پر لے جایا گیا۔ پس اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور ا