مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
٣٩٣٢٨ - حدثنا أبو أسامة حدثنا (مجالد) (١) عن عامر قال: قالت قريش لرسول اللَّه ﷺ: إن كنت نبيا كما تزعم فباعد جبلي مكة (أخشبيها) (٢) هذين (مسيرة) (٣) أربعة أيام أو خمسة، فإنها (ضيقة) (٤) حتى نزرع فيها ونرعى، ⦗٣٦٩⦘ وابعث لنا (آباءنا) (٥) من الموتى حتى يكلمونا ويخبرونا أنك نبي، واحملنا إلى الشام أو إلى اليمن أو إلى (الحيرة) (٦)، حتى نذهب ونجيء في ليلة كما زعمت أنك فعلته فأنزل اللَّه: ﴿وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى﴾ [الرعد: ٣١] (٧).حضرت عامر روایت کرتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : اگر تم نبی ہو ! جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو پھر تم مکہ کے ان دو پہاڑوں کو ، جن پر پانی جمع نہیں رہتا، چار یا پانچ دن کی مسافت تک دور کردو ۔ کیونکہ یہ تنگ ہیں۔ تاکہ ہم اس میں کھیتی باڑی کریں اور ہم اس کو چراگاہ بنائیں۔ اور ہمارے فوت شدہ آباء کوا اٹھاؤ تاکہ وہ ہم سے باتیں کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ نبی ہیں۔ اور آپ ہمیں شام ، یمن اور حیرۃ کی طرف اٹھائیں تاکہ ہم ایک ہی رات میں آئیں اور جائیں۔ جیسا کہ آپ کا گمان ہے کہ آپ نے ایسا کیا ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَلَوْ أَنَّ قُرْآنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ ، أَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الأَرْضُ ، أَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتَی }۔