مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
٣٩٣٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس أن النبي صلى اللَّه عليه (١) وسلم شُج في وجهه وكسرت رباعيته ورمي رمية على كتفه فجعل يمسح الدم عن وجهه ويقول: "كيف تفلح أمة فعلت هذا بنبيها وهو يدعوهم (إلى اللَّه) (٢) "، فأنزل اللَّه: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [آل عمران: ١٢٨] (٣).حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوگئے اور ایک تیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ وہ امت کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { لَیْسَ لَک مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ ، أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ ، أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ }۔