حدیث نمبر: 39327
٣٩٣٢٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس أن النبي صلى اللَّه عليه (١) وسلم شُج في وجهه وكسرت رباعيته ورمي رمية على كتفه فجعل يمسح الدم عن وجهه ويقول: "كيف تفلح أمة فعلت هذا بنبيها وهو يدعوهم (إلى اللَّه) (٢) "، فأنزل اللَّه: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [آل عمران: ١٢٨] (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک میں زخم آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوگئے اور ایک تیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرے سے خون کو پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ وہ امت کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { لَیْسَ لَک مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ ، أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ ، أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ }۔

حواشی
(١) في [أ]: زيادة (وآله).
(٢) في [جـ]: تكرر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39327
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٩١)، وأحمد ٣/ ٩٩ (١١٩٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39327، ترقيم محمد عوامة 37723)