مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
٣٩٣٢٦ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن حجاج عن منذر عن ابن الحنفية (في قوله) (١): ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ﴾ [العنكبوت: ١٣]: قال: كان أبو جهل وصناديد قريش يتلقون الناس إذا جاؤا إلى النبي صلى اللَّه عليه (٢) وسلم ⦗٣٦٨⦘ (يسلمون) (٣) فيقولون: إنه يحرم الخمر ويحرم الزنا (ويحرم) (٤) ما كانت تصنع العرب فارجعوا فنحن نحمل أوزاركم، فنزلت هذه الآية: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ (أَثْقَالَهُمْ) (٥)﴾ (٦).حضرت ابن الحنفیہ سے قول خداوندی { وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ وَأَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِہِمْ } کی تفسیر میں منقول ہے ۔ فرمایا : ابو جہل اور سردارانِ قریش لوگوں سے راستہ میں ملاقات کرتے جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اسلام لانے کے لئے حاضر ہوتے اور لوگوں سے کہتے۔ یہ خمر کو حرام قرار دیتا ہے اور زنا کو حرام قرار دیتا ہے ۔ جو چیزیں عرب کرتے تھے یہ انہیں حرام قرار دیتا ہے۔ پس تم لوٹ جاؤ۔ ہم تمہارے بوجھ کو اٹھائیں گے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ { وَلَیَحْمِلُنَّ أَثْقَالَہُمْ }