مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 39325
٣٩٣٢٥ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس قال: قال رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (١) وسلم: " (لقد) (٢) (أوذيت) (٣) في اللَّه وما يؤذى أحد، ولقد (أخفت) (٤) في اللَّه وما يخاف أحد، ولقد أتت علي ثالثة من بين يوم وليلة (وما لي) (٥) ولبلال طعام يأكله ذو كبد إلا ما واراه إبط (بلال) (٦) " (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے اللہ (کی راہ) میں اتنی اذیت دی گئی ہے کہ کسی کو اتنی اذیت نہیں دی گئی اور مجھے اللہ (کے راستہ) میں اتنا خوف زدہ کیا گیا ہے کہ کسی کو اتنا خوف زدہ نہیں کیا گیا۔ اور تحقیق مجھ پر تین دن رات ایسے بھی آئے کہ میرے اور بلال کے لئے کھانے کی اتنی چیز بھی نہیں ہوتی تھی جس کو کوئی ذی روح کھا سکے مگر وہ مقدار جس کو بلال کی بغل چھپاتی تھی۔
حواشی
(١) في [أ]: زيادة (وآله).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س]: (أعذ وذيت).
(٤) في [أ، ب]: (أخفتني).
(٥) في [أ، ب]: (ومال).
(٦) في [أ، ب]: (هلال).