مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
٣٩٣٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا يزيد بن زياد قال: حدثنا أبو صخرة جامع بن شداد عن طارق المحاربي قال: رأيت رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (١) وسلم بسوق ذي المجاز وأنا في بياعة أبيعها، قال: فمر وعليه جبة له حمراء وهو ينادي بأعلى صوته: "أيها الناس، قولوا: لا إله إلا اللَّه تفلحوا"، ورجل يتبعه بالحجارة، (قد) (٢) أدمى كعبيه وعرقوبيه، وهو يقول: يا أيها الناس لا تطيعوه فإنه كذاب، قال: قلت: من هذا؟ قالوا: هذا غلام بني عبد المطلب، قلت: فمن هذا ⦗٣٦٧⦘ الذي يتبعه يرميه (بالحجارة؟) (٣) قالوا: عمه عبد العزى وهو أبو لهب (٤).حضرت طارق محاربی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا۔ اور میں وہاں کوئی چیز فروخت کرنے کے لئے گیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وہاں سے) گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سُرخ رنگ کا جُبہ تھا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بآواز بلند یہ ندا کر رہے تھے۔ ” اے لوگو ! لا الہ الا اللّٰہ کہہ لو۔ تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ “ اور ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پتھر لے کر آ رہا تھا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ٹخنے اور ایڑیوں کو خون آلود کردیا تھا اور وہ شخص کہہ رہا تھا۔ اے لوگو ! اس کے پیچھے نہ لگنا ! کیونکہ یہ جھوٹا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ میں نے پوچھا ؟ یہ نوجوان کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ۔ یہ بنی عبد المطلب کا لڑکا ہے۔ میں نے پوچھا : یہ آدمی کون ہے جو اس کے پیچھے پتھر مار رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ اس کا چچا عبدا لعزی ہے اور یہی ابو لہب ہے۔