مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
٣٩٣٢٣ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الأعمش قال: حدثنا عباد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لما أن مرض أبو طالب دخل عليه رهط من قريش فيهم أبو جهل قال: فقالوا: إن ابن أخيك يشتم آلهتنا ويفعل ويفعل (وبقول (ويقول)) (١) (٢)، فلو بعثت إليه فنهيته، فبعث إليه أو قال: جاء النبي ﷺ فدخل البيت (وبينه) (٣) وبين أبي طالب مجلس رجل، قال: فخشي أبو جهل إن جلس النبي ﷺ (٤) إلى جنب أبي طالب أن يكون أرق له عليه، فوثب فجلس (في) (٥) ذلك المجلس، ولم يجد النبي ﷺ (٦) مجلسا قرب عمه، فجلس عند الباب قال أبو طالب: أي ابن أخي ما بال قومك يشكونك؟ يزعمون (أنك) (٧) تشتم آلهتهم وتقول ⦗٣٦٦⦘ (وتقول) (٨) وتفعل وتفعل، قال: فأكثروا عليه من اللحو، قال: فتكلم النبي ﵊ فقال: "يا عم، إني أريدهم على كلمة واحدة يقولونها تدين لهم بها العرب، وتؤدي (إليهم) (٩) بها العجم الجزية"، قال: ففزعوا لكلمته ولقوله قال: فقال القوم: كلمة واحدة -نعم وأبيك- وعشرا، قال: وما هي قال: أبو طالب وأي كلمة هي يا ابن أخي قال: "لا إله إلا اللَّه"، قال: فقاموا فزعين ينفضون ثيابهم وهم يقولون: ﴿أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾، قال: وقرأ من هذا الموضع إلى قوله: ﴿لَمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ﴾ [ص: ٥، ٨] (١٠).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کا مرض (الوفات) شروع ہوا تو ان کے پاس قریش کا ایک گروہ حاضر ہوا جن میں ابو جہل بھی تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ انہوں نے (ابو طالب سے) کہا۔ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے۔ اور یہ یہ کرتا ہے اور یہ یہ کہتا ہے۔ اگر (اس کی طرف کسی کو) بھیج دیں اور اس کو منع کردیں (تو اچھا ہو) ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف (کسی کو) بھیجا۔ یا راوی کہتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ ابو طالب اور آپ کے درمیان ایک آدمی کی نشست کی جگہ تھی۔ راوی کہتے ہیں : ابو جہل کوا س بات کا خوف ہوا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابو طالب کے پہلو میں بیٹھ گئے تو یہ چیز ابو طالب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نرم کر دے گی۔ پس ابو جہل اچھل کر اس نشست پر بیٹھ گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا کے قریب کوئی نشست نہ ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازہ کے پاس ہی بیٹھ گئے۔ ابو طالب نے کہا ! اے بھتیجے ! کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم آپ کے بارے میں شکایت کررہی ہے ؟ ان کا خیال ہے کہ آپ ان کے معبودان کو برا بھلا کہتے ہیں اور یہ یہ کہتے ہیں اور یہ یہ کرتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں۔ قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوب ملامت کی۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گفتگو کی اور فرمایا : اے چچا جان ! میں انہیں ایسے کلمہ پر بلانا چاہتا ہوں جس کو یہ کہہ لیں گے تو عرب ان کے لئے فرمانبردارہو جائیں گے اور عجم ان کی طرف اپنے جزیہ بھیجیں گے۔ راوی کہتے ہیں : قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سُن کر حیران ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے کہا : ایک کلمہ ! ہاں ! تیرے باپ کی قسم ! دس (کلمہ بھی ایسے کہلوا لو) وہ کیا کلمہ ہے ؟ ابو طالب نے پوچھا اے بھتیجے ! وہ کون سا کلمہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ سب قریشی گھبرا کر اٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو جھاڑنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے۔ { أَجَعَلَ الآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا ، إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے۔ { لَمَّا یَذُوقُوا عَذَابِ } تک قراءت کی۔