مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
٣٩٣٢٢ - حدثنا جعفر بن عون قال: أخبرنا سفيان عن أبي إسحاق عن عمرو ابن ميمون عن عبد اللَّه بن مسعود قال: كان النبي ﷺ يصلي في ظل الكعبة قال: فقال أبو جهل وناس من قريش، قال: ونحرت جزور في ناحية مكة، قال: فأرسلوا فجاؤا من سلاها فطرحوه عليه، قال: فجاءت فاطمة حتى ألقته عنه، قال: فكان ⦗٣٦٥⦘ (يستحب) (١) (ثلاثًا) (٢) يقول: "اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش، (اللهم عليك بقريش) (٣): بأبي جهل بن هشام وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة والوليد بن عتبة وأمية بن خلف وعقبة بن أبي معيط"، قال: قال عبد اللَّه: (فلقد) (٤) رأيتهم قتلى في قليب بدر، قال أبو إسحاق: ونسيت السابع (٥).حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سایہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں ۔ ابو جہل اور قریش کے لوگوں نے کہا : اس وقت مکہ کے کسی محلہ میں اونٹ ذبح ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں ۔ انہوں نے (کسی کو) بھیجا پس یہ اونٹ کی اوجری لے کر آئے اور انہوں نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پھینک دیا ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت فاطمہ نے آ کر اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہٹایا ۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی ۔ اے اللہ ! قریش کو پکڑ ، اے اللہ ! قریش کو پکڑ۔ اے اللہ ! قریش کو پکڑ۔ ابو جہل بن ہشام کو۔ عتبہ بن ربیعہ کو۔ شبہہ بن ربیعہ کو۔ ولید بن عتبہ کو ، امیہ بن خلف کو اور عقبہ بن ابی معیط کو۔ راوی کہتے ہیں : کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان سب کو قلیب بدر میں مقتول حالت میں دیکھا ۔ ابو اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے ساتویں آدمی کا نام بھول گیا ہے۔