مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
٣٩٣٢١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر أبو جهل فقال: ألم أنهك (فانتهره) (١) النبي ﷺ فقال له أبو جهل: لم (تنتهرني) (٢) يا محمد، واللَّه لقد علمت ما بها رجل أكبر (ناديا) (٣) مني، قال: فقال جبريل: فليدع ناديه، (قال) (٤)؛ فقال ابن عباس: واللَّه (٥) لو دعا ناديه لأخذته (زبانية) (٦) العذاب (٧).حضرت ابن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو جہل گزرا اور اس نے کہا۔ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ڈانٹ پلا دی۔ ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : اے محمد ! تم مجھے کیوں ڈانٹتے ہو ؟ بخدا تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں کوئی شخص مجھ سے بڑی مجلس والا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت جبرائیل نے فرمایا : { فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ } راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ۔ بخدا اگر ابو جہل اپنی مجلس (والوں) کو بلاتا تو اس کو عذاب کے فرشتے زبانیہ پکڑ لیتے۔