حدیث نمبر: 39321
٣٩٣٢١ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن داود عن عكرمة عن ابن عباس قال: مر أبو جهل فقال: ألم أنهك (فانتهره) (١) النبي ﷺ فقال له أبو جهل: لم (تنتهرني) (٢) يا محمد، واللَّه لقد علمت ما بها رجل أكبر (ناديا) (٣) مني، قال: فقال جبريل: فليدع ناديه، (قال) (٤)؛ فقال ابن عباس: واللَّه (٥) لو دعا ناديه لأخذته (زبانية) (٦) العذاب (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو جہل گزرا اور اس نے کہا۔ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ڈانٹ پلا دی۔ ابو جہل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا : اے محمد ! تم مجھے کیوں ڈانٹتے ہو ؟ بخدا تمہیں معلوم ہے کہ قریش میں کوئی شخص مجھ سے بڑی مجلس والا نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت جبرائیل نے فرمایا : { فَلْیَدْعُ نَادِیَہُ } راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ۔ بخدا اگر ابو جہل اپنی مجلس (والوں) کو بلاتا تو اس کو عذاب کے فرشتے زبانیہ پکڑ لیتے۔

حواشی
(١) في [ب]: (فانتهزه).
(٢) في [أ، ب]: (تنتهزني).
(٣) في [ب]: (باديًا).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٥) في [ط، ق]: زيادة (أن).
(٦) في [هـ]: (ربانية)، وفي [س]: (زبالة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39321
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أبو خالد صدوق، وداود بن الحصين ثقة إلا في عكرمة، أخرجه أحمد (٢٣٢٢)، والترمذي (٣٣٤٩)، والنسائي في الكبرى (١١٦٨٤)، والطبري ٣٠/ ٢٥٥، والبيهقي ٢/ ١٩٢، والطبراني (١١٩٥٠)، والحاكم ٢/ ٤٨٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39321، ترقيم محمد عوامة 37717)